تلنگانہ

نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ

حکومت ہند کی نیشنل اوورسیز اسکالرشپ (این او ایس) اسکیم ملک کے دور دراز علاقوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت سینکڑوں طلبہ دنیا کی ممتاز جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: حکومت ہند کی نیشنل اوورسیز اسکالرشپ (این او ایس) اسکیم ملک کے دور دراز علاقوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت سینکڑوں طلبہ دنیا کی ممتاز جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اقلیتی نوجوانوں کو آئی ٹی اور ہنرمندی کی مفت تربیت فراہم کرنے کے لیے تجاویز طلب، 15 جون آخری تاریخ

اسکیم سے مستفید ہونے والے طلبہ میں تریپورہ کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے دیپائن بھومک بھی شامل ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود جرمنی کی یونیورسٹی آف اسٹٹگارٹ سے آرکیٹیکچر اور اربن ڈیزائن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ بیرون ملک تعلیم اور پیشہ ورانہ تجربے کے بعد وہ ہندوستان واپس آئے اور اپنا آرکیٹیکچرل ادارہ قائم کرکے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

اسی طرح روزانہ مزدوری کرنے والے والدین کے بیٹے ڈاکٹر ویتھلنگم راجندرن نے نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کی مدد سے امریکہ کی اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ آج وہ ایک ممتاز سائنسدان کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

حکومت کی اس اسکیم کے تحت درج فہرست ذات (SC) کے ایسے طلبہ کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی پانچ لاکھ روپے سے کم ہو۔ اسکالرشپ کے ذریعے ٹیوشن فیس، رہائش، فضائی سفر، بیمہ اور دیگر تعلیمی اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں، جس سے عالمی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب معاشی مشکلات کی نذر نہیں ہوتا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں 764 طلبہ کو ان کی تعلیمی صلاحیتوں کی بنیاد پر دنیا کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اسکالرشپ کے تحت ایک طالب علم پر مجموعی مالی امداد بعض اوقات ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ بعض کورسز میں یہ رقم دو کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل اوورسیز اسکالرشپ صرف مالی امداد کا پروگرام نہیں بلکہ انسانی وسائل میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جب وطن واپس آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ جدید علم، عالمی تجربات اور ترقی کے نئے تصورات بھی لاتے ہیں، جو سماجی اور اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس اسکیم نے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے نئی امید پیدا کی ہے۔ ایسے علاقوں میں ایک طالب علم کی کامیابی پورے معاشرے کے لیے مثال بن جاتی ہے اور دیگر نوجوانوں کو بھی بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے لیے درخواستیں سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت کے تحت طلب کی جاتی ہیں۔ اہل امیدوار نیشنل اسکالرشپ پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی اسکالرشپ اسکیمیں ملک کے "وکست بھارت 2047” کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد ہے۔