حیدرآباد

کسی بھی پارٹی کے منشور میں مہنگائی کم کرنے کا وعدہ نہیں

سیاسی پارٹیوں کو چاہئیے تھا کہ عوام کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتیں لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ویسے تو سیاسی جماعتیں انتخابات میں وعدے تو بہت کرتی ہیں لیکن انتخابات کے بعد اس کو نظراندازکردیتی ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں انتخابات کی لہر چل رہی ہے مگر کسی بھی سیاسی جماعت نے مہنگائی پرکنٹرول کرنے اور ڈیزل کی قیمتوں پرنظرثانی (کمی) منشور میں شامل نہیں کیا۔ تمام پارٹیاں اپنی اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ

پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں بے انتہااضافہ ہوچکا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت مہنگائی کم کرنے سے متعلق تفصیلات اپنے منشور میں شامل نہیں کی ہے۔ صرف انتخابات میں اپنے مفاد کا ذکرکررہی ہے۔

 سیاسی پارٹیوں کو چاہئیے تھا کہ عوام کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتیں لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ویسے تو سیاسی جماعتیں انتخابات میں وعدے تو بہت کرتی ہیں لیکن انتخابات کے بعد اس کو نظراندازکردیتی ہیں۔

 ضروری ہے کہ کامیابی کے بعد کئے گئے وعدوں پر عمل کیاجائے۔ کس طرح عوام زندگی گزاریں گے جبکہ مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اس پرنظرثانی کرنے کی بہت ضرورت ہے۔چاول‘میٹھاتیل‘دالیں‘ مصالحے‘صابن اور ترکاری تک کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔

 اس کے باوجود سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سیاسی قائدین کو کروڑوں روپئے کی آمدنی ہوتی ہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مہنگائی کیا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں مہنگائی کے خلاف جدوجہد کریں اور عوام کو راحت پہنچائیں۔