قرض کے بدلے مکان کم کرایہ پر دینا، شرعی حکم کیا ہے؟
میرے پاس مکان ہے جو دو لاکھ ڈیپازٹ اور سو روپیہ کرایہ سے دیا ہے ؛ کیوںکہ مجھ پر دو لاکھ کا قرض تھا جو مجھے چکانا تھا تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
سوال:- میرے پاس مکان ہے جو دو لاکھ ڈیپازٹ اور سو روپیہ کرایہ سے دیا ہے ؛ کیوںکہ مجھ پر دو لاکھ کا قرض تھا جو مجھے چکانا تھا تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ (محمد شوكت علی، ناندیڑ)
جواب:- اگر وہ مکان عام حالات میں سو روپے ماہانہ کرایہ پر نہیں مل سکتا اور قرض کی وجہ سے اتنے کم کرایہ پر دیا گیا تو یہ جائز نہیں ، یہ گویا اس قرض کے بدلہ مکان کی رہائش کا فائدہ پہنچانا ہے ، جو جائز نہیں ہے ،
یہ بالواسطہ طورپر سود لینے اور دینے کی ایک شکل ہے اور اس صورت میں قرض لینے والا مکان کے کم سے کم واجبی کرایہ کا مستحق ہے جو قرض کی رقم میں سے منہا ہونا چاہئے:
ولو استقرض دراہم وسلم حمارہ إلی المقرض لیستعمہ إلی شھرین حتی یوفیہ دینہ ، او دارہ لیسکنھا فھو بمنزلۃ الاجارۃ الفاسدۃ ان استعملہ فعلیہ اجرمثلہ ولا یکون رہنا ( ردالمحتار: ۰۱؍ ۸۷)
البتہ اس مکان پر مارکٹ میں جتنا کرایہ ہوسکتا ہے ، اس میں سے کم سے کم کرایہ طے ہوجائے تو اس کی گنجائش ہے ، مثلاً ایک جگہ کا کرایہ پانچ ہزارسے دس ہزار تک ہوسکتا ہے اور پانچ ہزار کرایہ طئے کیا تو اس کی گنجائش ہے ۔