تلنگانہ

مرِیال گوڑہ میں کے ٹی آر کی کسان ریلی کو اجازت سے انکار، بی آر ایس کا کانگریس پر سازش کا الزام

بی آر ایس نے رواں ماہ 3 ستمبر کو مرِیال گوڑہ ٹاؤن میں کسانوں کی ایک بڑی ریلی اور جلسہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پروگرام کے تحت فلائی اوور سے راجیو چوک تک بڑے پیمانے پر ریلی نکالی جانی تھی، جس کے بعد راجیو چوک پر جلسہ عام کا انعقاد ہونا تھا۔

مرِیال گوڑہ: تلنگانہ کے مرِیال گوڑہ میں بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور سابق وزیر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی جانب سے مجوزہ کسان ریلی اور جلسہ عام کو پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ بی آر ایس نے اس اقدام کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

بی آر ایس نے رواں ماہ 3 ستمبر کو مرِیال گوڑہ ٹاؤن میں کسانوں کی ایک بڑی ریلی اور جلسہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پروگرام کے تحت فلائی اوور سے راجیو چوک تک بڑے پیمانے پر ریلی نکالی جانی تھی، جس کے بعد راجیو چوک پر جلسہ عام کا انعقاد ہونا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سابق بی آر ایس رکن اسمبلی بھاسکر راؤ نے ریلی اور جلسہ کے انعقاد کے لیے پولیس سے اجازت طلب کرتے ہوئے درخواست جمع کرائی تھی۔ تاہم پولیس نے درخواست مسترد کرتے ہوئے پروگرام کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

پولیس کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر بی آر ایس قائدین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ کانگریس حکومت جان بوجھ کر کے ٹی آر کے کسانوں سے متعلق پروگرام میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بی آر ایس قائدین نے سوال کیا کہ ریلی کی اجازت کیوں مسترد کی گئی اور الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن کو عوامی مسائل اٹھانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے بعد مرِیال گوڑہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ بی آر ایس کی جانب سے اب اس پروگرام کے حوالے سے کیا فیصلہ کیا جاتا ہے، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔