قومی

ای ڈی نے سابق وزیر اعلیٰ بگھیل کے سابق ذاتی معاون چندراکر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا

موصولہ اطلاع کے مطابق ای ڈی کی ٹیم آج صبح تقریباً چھ بجے دو تین گاڑیوں سے کے کے چندراکر کے گھر پہنچی۔ افسران کی ٹیم رہائش گاہ پر موجود دستاویزات اور دیگر ضروری سامان کی جانچ کر رہی ہے۔ کارروائی کے پیش نظر گھر کے باہر پولیس فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔

دُرگ: چھتیس گڑھ کے بھیلائی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے ذاتی معاون رہ چکے کے کے چندراکر کی رہائش گاہ پر منگل کو چھاپہ مار کر جانچ شروع کی۔


موصولہ اطلاع کے مطابق ای ڈی کی ٹیم آج صبح تقریباً چھ بجے دو تین گاڑیوں سے کے کے چندراکر کے گھر پہنچی۔ افسران کی ٹیم رہائش گاہ پر موجود دستاویزات اور دیگر ضروری سامان کی جانچ کر رہی ہے۔ کارروائی کے پیش نظر گھر کے باہر پولیس فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔


ای ڈی کی اس کارروائی کے سلسلے میں فی الحال سرکاری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کے کے چندراکر کی رہائش گاہ پر کی جانے والی جانچ کس معاملے سے متعلق ہے۔ کارروائی کی وجہ اور اس سے متعلق دیگر حقائق کے بارے میں ای ڈی کی سرکاری اطلاعات کا انتظار ہے۔


واضح رہے کہ تقریباً 12 دن پہلے بھی ای ڈی نے مبینہ شراب گھپلہ معاملے میں رائے پور، دُرگ-بھیلائی اور دھمتری میں الگ الگ مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ رائے پور میں کانگریس رہنما رام گوپال اگروال کی انوپم نگر واقع رہائش گاہ اور دھمتری میں سیہاوا روڈ واقع ان کے گھر پر تقریباً نو گھنٹے تک کارروائی چلی تھی۔ اس دوران ٹیم کچھ اہم دستاویزات اپنے ساتھ لے گئی تھی۔


رام گوپال اگروال کو شراب، کوئلہ اور کسٹم ملنگ گھپلے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ اسی کارروائی کے دوران دُرگ میں بلڈر سجل جین اور وشواس گپتا کے گھروں پر بھی ای ڈی کی ٹیم پہنچی تھی۔ تقریباً سات افسران کی ٹیم نے دونوں مقامات پر جانچ کی تھی۔


چھتیس گڑھ کے مبینہ شراب گھپلے کی جانچ ای ڈی کے ساتھ اقتصادی جرائم تفتیشی شاخ (ای او ڈبلیو) بھی کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق سال 2019 سے 2022 کے درمیان سرکاری شراب فروخت کے نظام میں مبینہ طور پر سنڈیکیٹ بنا کر غیر قانونی شراب کی فروخت، کمیشن خوری اور سرکاری محصولات کو نقصان پہنچایا گیا۔


تحقیقاتی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے تقریباً 3200 کروڑ روپے کا غیر قانونی گھپلہ ہوا۔ معاملے کی جانچ میں کئی آئی اے ایس افسران، محکمہ آبکاری کے افسران، کاروباری افراد اور سیاسی طور پر وابستہ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی عدالتی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے اور معاملے میں جانچ اور عدالتی کارروائی جاری ہے۔