حیدرآباد

حیدرآباد کے پینے کے پانی کے لیے کالیشورم سے دو بڑی پائپ لائنیں، ₹7,360 کروڑ کے منصوبے کو منظوری

تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور موسیٰ ندی کی خوبصورتی سے متعلق منصوبوں کے لیے کالیشورم پروجیکٹ سے دو بڑی پائپ لائنیں تعمیر کرنے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی تخمینی لاگت 7,360 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور موسیٰ ندی کی خوبصورتی سے متعلق منصوبوں کے لیے کالیشورم پروجیکٹ سے دو بڑی پائپ لائنیں تعمیر کرنے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی تخمینی لاگت 7,360 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت کالیشورم سے حیدرآباد تک دو بڑی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔ بتایا گیا ہے کہ ہر پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 10 ٹی ایم سی پانی منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کو لے کر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے ماضی میں کالیشورم پروجیکٹ پر کیے گئے سخت تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے موجودہ فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ریونت ریڈی ماضی میں کالیشورم پروجیکٹ پر تنقید کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں شامل کمپنی کا موازنہ ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ سے بھی کرچکے ہیں۔ اب اپوزیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ جس منصوبے پر حکومت پہلے تنقید کرتی رہی، اسی سے متعلق پائپ لائن منصوبے کا ٹینڈر میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچرز لمیٹڈ (MEIL) کو کیوں دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے حکومت ایک نئی اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) کمپنی قائم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس SPV کے ذریعے قرض حاصل کرکے 7,360 کروڑ روپے کے منصوبے کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

مجوزہ پائپ لائنوں کے ذریعے حیدرآباد کے لیے اضافی پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ موسیٰ ندی سے متعلق حکومت کے منصوبوں کے لیے بھی پانی دستیاب کرانے کا مقصد ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد کالیشورم پروجیکٹ کو لے کر تلنگانہ میں سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کے موقف اور منصوبے کی مالی ساخت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی مستقبل کی پانی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اضافی آبی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔