تلنگانہ

چپّہ دَنڈی کے کسانوں کی دہائی، زرعی اراضی کو مبینہ طور پر 22A ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا الزام

متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ان اراضی پر کاشت کاری کرتے آرہے ہیں، اس کے باوجود ان کی زمینوں کو 22A کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں نے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

کریم نگر: تلنگانہ کے کریم نگر ضلع کے چپّہ دَنڈی منڈل کے مختلف مواضعات کے کسان اپنی زرعی اراضی کو مبینہ طور پر غیر منصفانہ طور پر 22A ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کے خلاف سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

کسانوں کے مطابق گُملّاپور گاؤں میں 428 کسانوں، چاکُنٹا میں 146، راگَم پیٹ میں 154 اور چِٹیال پلی میں 120 کسانوں کی اراضی کو مبینہ طور پر ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ان اراضی پر کاشت کاری کرتے آرہے ہیں، اس کے باوجود ان کی زمینوں کو 22A کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں نے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

کسانوں نے مختلف سرکاری دفاتر سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی اراضی کو 22A ممنوعہ فہرست سے فوری طور پر خارج کیا جائے اور معاملے کی مکمل جانچ کی جائے۔

کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کی اراضی کو ممنوعہ فہرست سے فوری طور پر خارج نہیں کیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کریں گے اور اپنی تحریک میں مزید شدت لائیں گے۔

متاثرہ کسانوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی شکایات کا ازالہ کریں۔