تعلیم یافتہ ماں ہی باشعور اور باکردار نسل کی بہترین معمار ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
اس لیے اسلامی تصورِ علم محض چند روایتی مذہبی معلومات تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ نافع علم اس کے دائرے میں آتا ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت، اپنی ذات کی اصلاح اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی طرف لے جائے
حیدرآباد : تاریخِ انسانیت کے سفر میں علم وہ چراغ ہے جس نے جہالت کی تاریکیوں کو شکست دے کر شعور، تہذیب، کردار اور ترقی کی راہیں روشن کیں۔ اسلام وہ آفاقی دین ہے جس نے انسان کو صرف عبادت کا شعور ہی نہیں دیا بلکہ اسے علم، فکر، تدبر، تحقیق اور معرفت کی دولت سے بھی آراستہ کیا۔ اسلام کے دامن میں مرد و زن کی کوئی ایسی تفریق نہیں جو علم کے دروازے پر آکر قائم ہو جائے؛ بلکہ دینِ مصطفیٰ ﷺ نے علم کو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور فلاح و نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے ’’تعلیمِ نسواں اور اسلام‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اسلام میں حصولِ علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نزولِ وحی کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ’’اقْرَأْ‘‘ یعنی ’’پڑھیے‘‘ کا حکم عطا فرمایا۔ سورۂ علق کی ابتدائی آیات میں پڑھنے، تخلیق، قلم اور علم کے مضامین کو یکجا کرکے یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ اسلام کا تصورِ علم نہایت وسیع، ہمہ گیر اور انسانیت ساز ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید انسان کو بار بار کائنات کی تخلیق، زمین و آسمان، انسانی وجود اور قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے اسلامی تصورِ علم محض چند روایتی مذہبی معلومات تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ نافع علم اس کے دائرے میں آتا ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت، اپنی ذات کی اصلاح اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی طرف لے جائے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کے فرائضِ نبوت میں تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور انسانوں کو ان امور کا علم عطا کرنا شامل ہے جن سے وہ پہلے ناواقف تھے۔ قرآنِ حکیم کی سورۂ بقرہ اور سورۂ جمعہ کی آیات اس حقیقت کو پوری وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔ جب تعلیم و تربیت خود فرائضِ نبوت کا بنیادی حصہ ہے تو اس عظیم نعمت سے خواتین کو محروم رکھنے کا تصور اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے فرضیتِ علم میں مرد و عورت کے درمیان کوئی امتیاز قائم نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں طلبِ علم کے راستے پر چلنے والے کے لیے جنت کی راہ آسان کیے جانے کی بشارت دی گئی ہے۔
جب شریعت کا خطاب عمومی ہو تو اس میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے احکام میں خواتین بھی مخاطب ہیں، اسی طرح حصولِ علم کی ترغیب اور فرضیت بھی خواتین کے لیے یکساں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی اہتمام فرمایا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ مرد آپ ﷺ کی خدمت میں استفادہ کے لیے ہم سے آگے نکل جاتے ہیں، لہٰذا ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر فرما دیجیے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے ایک دن مقرر فرمایا، جس میں آپ ﷺ انہیں نصیحت فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعلیم دیتے۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عہدِ رسالت ﷺ میں خواتین کی دینی تعلیم کو باقاعدہ اہمیت حاصل تھی۔
مولانا نے کہا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اسلامی تاریخ میں تعلیمِ نسواں کی ایک تابندہ مثال ہیں۔ آپؓ علمِ حدیث، فقہ، تفسیر اور دیگر دینی علوم میں بلند مقام رکھتی تھیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سمیت متعدد افراد آپؓ سے علمی استفادہ کرتے تھے۔ آپؓ کی علمی شخصیت اس حقیقت کی ناقابلِ تردید شہادت ہے کہ اسلام نے خواتین کو علم کی دنیا میں فعال اور باوقار کردار ادا کرنے کا حق دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پردے کو خواتین کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنانا درست نہیں۔ اسلام نے پردے، حیا، عفت اور پاکیزگی کی تعلیم دی ہے، مگر خواتین کو ہر قسم کی علمی، سماجی اور تعمیری سرگرمی سے کاٹ دینے کا حکم نہیں دیا۔ قرآنِ کریم نے خواتین کو نگاہوں کی حفاظت، زینت کی عدم نمائش اور شرعی حدود کی پابندی کا حکم دیا ہے، لیکن یہ احکام خواتین کو علم حاصل کرنے سے منع نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین نے صرف تعلیم ہی حاصل نہیں کی بلکہ ضرورت کے مواقع پر معاشرتی اور رفاہی خدمات میں بھی حصہ لیا۔ غزوۂ اُحد کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا زخمی اور پیاسے مسلمانوں کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے متعدد غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی خدمت انجام دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ خواتین کو عزت، حیا اور شرعی حدود کے ساتھ معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنے سے نہیں روکتا۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اسلامی تاریخ ایسی باکمال خواتین کے تذکروں سے روشن ہے جنہوں نے علمِ حدیث، تفسیر، فقہ، لغت، نحو، طب، شاعری اور کتابت سمیت مختلف علمی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہ تاریخی حقیقت اس نظریے کی تردید کرتی ہے کہ خواتین کے لیے علم کے دروازے بند رکھنا اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچیوں کی تعلیم کے لیے خواتین اساتذہ کا انتظام زیادہ موزوں اور قابلِ ترجیح ہے، لیکن اگر کسی مقام پر ایسا انتظام میسر نہ ہو تو شرعی حدود، پردے، حیا اور دیگر اسلامی آداب کی مکمل رعایت کے ساتھ مرد اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کو محض اس بنیاد پر مطلقاً حرام قرار دینا درست نہیں۔ اصل مطلوب شرعی حدود کی حفاظت کے ساتھ علم کا حصول ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پردے کو بنیاد بناکر خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کی کوشش نہ صرف علمی اعتبار سے کمزور ہے بلکہ اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ کے روشن واقعات سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ پردہ عورت کی عزت و عفت کا حصار ہے، علم سے محرومی کی دیوار نہیں۔ اسلام نے حیا بھی دی اور علم بھی؛ عفت بھی عطا کی اور شعور بھی۔
مولانا نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیمِ نسواں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور باکردار خاتون نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتی ہے بلکہ ایک نسل کی تربیت کرتی ہے۔ ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہے؛ اگر ماں علم، شعور، اخلاق اور دینی بصیرت سے آراستہ ہو تو اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے اہلِ علم، والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ مسلم بچیوں کی دینی، اخلاقی، عصری اور سائنسی تعلیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے، انہیں علم سے محروم کرنے کے بجائے اسلامی آداب و اقدار کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ خواتین کی تعلیم کو اسلام کے خلاف سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہے؛ اسلام تو علم کے چراغ کو ہر انسان کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتا ہے۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کی تعلیم کے بارے میں معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو قرآن و سنت، سیرتِ طیبہ اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں دور کیا جائے۔ اسلام کا روشن چہرہ علم، حکمت، حیا، کردار اور انسانیت کی خدمت سے عبارت ہے؛ لہٰذا تعلیمِ نسواں کی حوصلہ افزائی دراصل اسلامی تعلیمات کے حقیقی روح کی پاسداری ہے۔