دہلی

راہول گاندھی میں کوئی صلاحیت نہیں۔ جنتادل یوکا پلٹ وار

جنتادل یو نے اتوار کے دن بہارمیں انڈیا بلاک کے ڈھیرہونے کیلئے کانگریس کو موردالزام ٹہرایا اور کہا کہ اس کے قائدین صرف اپنی پارٹی کو مستحکم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

نئی دہلی: جنتادل یو نے اتوار کے دن بہارمیں انڈیا بلاک کے ڈھیرہونے کیلئے کانگریس کو موردالزام ٹہرایا اور کہا کہ اس کے قائدین صرف اپنی پارٹی کو مستحکم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
بی جے پی کے خلاف لڑنے ممتا بنرجی بے حد ضروری: جئے رام رمیش
انڈیا اتحاد اگر بہن مایاوتی کو وزیر ِاعظم کا چہرہ بناکر پیش کرے تو یقینی طور پر زعفرانی پارٹی کا صفایہ ہوجائے گا
افواہوں میں کوئی سچائی نہیں۔ جنتادل یو کی وضاحت
یہ کوئی عام الیکشن نہیں، دستور اور جمہوریت کو بچانا ہے۔ راہول گاندھی کا پارٹی کارکنوں کے نام ویڈیو پیام
امیٹھی سے میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی کرے گی: راہول گاندھی

انہیں اپوزیشن بلاک کے استحکام کی کوئی پرواہ نہیں۔ جنتادل یونائیٹیڈ کے ترجمان کے سی تیاگی نے میڈیا سے کہا کہ کانگریس کے اندرایک ٹولہ انڈیا بلاک کی قیادت پرقبضہ چاہتا تھا اور اس کے صدر ملیکارجن کھرگے کا نام کانگریس کی سازش کے تحت انڈیابلاک کے سربراہ کے طور پر تجویزکردیاگیا۔ اس فیصلہ سے جنتادل یو کو دھچکالگا۔

جسے یقین تھا کہ اس کے صدر اور چیف منسٹر بہار نتیش کمارکو کنوینربنایاجائے گا۔ کوئی صدرنشین نہیں ہوگا۔ جنتادل یو کے ایک اور ترجمان راجیب رنجن نے کانگریس پر مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پہلے ایک ایسے شخص کو اپوزیشن بلاک کا امیدوارِ وزارتِ عظمیٰ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی کشتی ڈوبوئی۔

ان کا یہ تبصرہ راہول گاندھی پرطنز تھا۔ راجیب رنجن نے کانگریس کو بھسماسُر قراردیا۔ یہ دیومالائی رکاس جسے چھولیتا ہے وہ جل کرراکھ ہوجاتا ہے۔ نتیش کمار پر موقع پرست ہونے کے کانگریس کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کے سی تیاگی نے کہا کہ کانگریس کی وجہ سے ہی انڈیا بلاک پٹری سے اترا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنتادل یو کو بہار کی اپوزیشن جماعت آرجے ڈی سے مسائل تھے لیکن ان کی نوعیت مقامی سطح کی تھی۔ کے سی تیاگی نے کہا کہ ہمیں دکھ اور خوشی دونوں ہیں کہ انڈیا بلاک میں اپوزیشن جماعتوں کو یکجاکرنے والا ہمارا قائد اس سے باہرنکل آیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ نشستوں کا غیرمتناسب مطالبہ کرتے ہوئے علاقائی جماعتوں کی بنیاد پر قابض ہوجائے۔ کانگریس نے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی اور چیف منسٹر بہارنتیش کمار کو اس کی بھارت جوڑو نیائے یاترا میں شرکت کا ایسا حکم دیا جیسے وہ اس کے ورکرس ہوں۔ کانگریس نے ان ریاستوں میں جہاں وہ طاقتور ہے‘ اپنے کسی حلیف کو جگہ نہیں دی۔ انہوں نے کئی اسمبلی الیکشنس کا حوالہ دیا۔