حیدرآباد

گورنر کی جانب سے واپس کردہ 4بلز کی اسمبلی میں دوبارہ منظوری

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں 4بلز کو جنہیں گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے پہلے واپس کردیا تھا، دوبارہ منظور کرلیا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں 4بلز کو جنہیں گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے پہلے واپس کردیا تھا، دوبارہ منظور کرلیا گیا۔

متعلقہ خبریں
اسمبلی میں بی آر ایس ایم ایل ایز نے مجھے اکسایا: ناگیندر
موسیٰ پروجیکٹ نیا نہیں، متاثرین کی بازآبادکاری کا وعدہ: وزیر راج نرسمہا
پرگتی بھون اور راج بھون میں اختلافات برقرار
گورنر نے تصرف بلز کو منظوری دے دی
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید

جمعہ کے روز ایوان میں جن 4بلز کو دوبارہ منظور کیا گیا ہے ان میں تلنگانہ بلدی قوانین (ترمیمی) بل2022، تلنگانہ پبلک ایمپلائمنٹ ریگولیشن آف ایج سوپر نیشن (ترمیمی) بل 2022، تلنگانہ اسٹیٹ پرائیوٹ یونیورسٹیز اسٹابلشمنٹ اینڈ ریگولیشن (ترمیمی) بل اور تلنگانہ پنچایت راج (ترمیمی) بل 2023 شامل ہیں۔

متعلقہ وزرا نے دوبارہ غور کرنے کے بعد ان بلز کو ایوان میں پیش کیا جنہیں منظور کرلیا گیا۔ قبل ازیں ایوان میں حالیہ شدید بارش کے نقصانات، ریاست میں محکمہ صحت اور تعلیمات کے استحکام کیلئے حکومت کے اقدامات پر مباحث ہوئے۔

بارش کے نقصانات پر جاری مباحث کے دوران حکمراں بی آر ایس اور اپوزیشن کانگریس کے ارکان کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی۔

حکومت کے ناکافی اقدامات پر اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ ریاستی وزیر مقننہ ویمولا پرشانت ریڈی نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے راحت کاری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔