حیدرآباد
ٹرینڈنگ

حیدرآباد میں حائیڈرا کی انہدامی کارروائی سے رئیل اسٹیٹ مفلوج ہوگیا؟

کے ٹی آر نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ فیوچر سٹی کے نام پر مصنوعی رئیل اسٹیٹ بوم پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن عام افراد خرید وفروخت نہ کریں تو کیسے یہاں رئیل اسٹیٹ کو فروغ ملے گا اور آمدنی کیسے بڑھے گی۔

حیدرآباد: ریاست کی آمدنی میں واضح کمی کے ساتھ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر نے ریاستی محصول کو متاثر کرنے والی ناکام پالیسیوں پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے سوال کیا۔ اُنہوں نے ریاست کی بگڑتی اقتصادی صورتحال پر مختلف نیوز رپورٹس کا حوالہ دیا۔ ریاست کی بگڑتی معاشی صورتحال میں حیدرآباد میں ریلٹی مارکٹ میں مندی بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام

اپنے ایک بیان میں کے ٹی راماراؤ نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی، تلنگانہ کی اقتصادی ترقی کے انجن حیدرآباد کے تحفظ میں ناکام کررہے ہیں۔ اس کے  بجائے چیف منسٹر بلڈوزر سیاست، حائیڈرا کے نام پر تعمیرات کی مسماری کے ذریعہ عام افراد میں خوف پیدا کررہے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ صرف 2 ماہ میں حیدرآباد رئیل اسٹیٹ مفلوج ہوگیا۔ رجسٹریشن کے عمل میں تیزی سے گراوٹ آئی۔ آمدنی بھیانک کم ہوئی۔ ا نہوں نے کہاکہ اگر چیف منسٹر، آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں تو انہیں کم از کم موجودہ آمدنی کے وسائل، ذرائع کا تحفظ کرنا چاہئے۔

اُنہوں نے ریاست کی مالیاتی موثر منصوبہ بندی میں چیف منسٹر کی صلاحیتوں پر بھی سوال اُٹھائے ہیں۔ فیوچرسٹی کو ترقی دینے سے متعلق حکومت کے مقاصد پر شک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے ا نہوں نے اس کو چیف منسٹر کے بھائیوں کیلئے ایک پالتو منصوبہ قراردیا اور اسے جانبداری اور غلط ترجیحات سے موسوم کیا۔

 انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ فیوچر سٹی کے نام پر مصنوعی رئیل اسٹیٹ بوم پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن عام افراد خرید وفروخت نہ کریں تو کیسے یہاں رئیل اسٹیٹ کو فروغ ملے گا اور آمدنی کیسے بڑھے گی۔