حیدرآباد

ائمہ و موذنین کی خدمات کا اعتراف دین سے محبت کی علامت: آل انڈیا صوفی علماء کونسل

آل انڈیا صوفی علماء کونسل کے زیر اہتمام طویل عرصہ سے دینی خدمات انجام دینے والے ائمہ و موذنین کے اعزاز میں ایک عظیم الشان تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع اور شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 ائمہ و موذنین کو ’’افتخارِ ہند‘‘ اور ’’سراج المساجد‘‘ ایوارڈس سے نوازا گیا۔

حیدرآباد: آل انڈیا صوفی علماء کونسل کے زیر اہتمام طویل عرصہ سے دینی خدمات انجام دینے والے ائمہ و موذنین کے اعزاز میں ایک عظیم الشان تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع اور شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 ائمہ و موذنین کو ’’افتخارِ ہند‘‘ اور ’’سراج المساجد‘‘ ایوارڈس سے نوازا گیا۔

یہ تقریب میڈیا پلس میں منعقد ہوئی، جہاں مختلف مکاتب فکر کے علماء، دانشوروں، سماجی قائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا صوفی علماء کونسل کے صدر مولانا خیر الدین صوفی نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ دین کی خدمت انجام دینے والوں کی ناقدری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے ائمہ اور موذنین خاموشی کے ساتھ دین اسلام کی حقیقی خدمت انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

مولانا خیر الدین صوفی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابی وعدوں کے مطابق ائمہ و موذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے ائمہ کے لیے 12 ہزار اور موذنین کے لیے 10 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرین چینل کے ذریعہ ہر ماہ باقاعدگی سے اعزازیہ جاری کیا جائے۔

امیرِ امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی المعروف جعفر پاشاہ نے صوفی کونسل کے اس اقدام کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی مسجد میں کئی دہائیوں تک خدمت انجام دینا معمولی بات نہیں بلکہ یہ خلوص، استقامت اور دین سے محبت کی روشن مثال ہے۔

صدر صفا بیت المال مولانا غیاث احمد رشادی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ائمہ و موذنین کی موجودگی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام صرف نماز پڑھانے والا نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی کرنے والا قائد بھی ہوتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند حیدرآباد کے شعبۂ رابطہ کے سکریٹری ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ جب مسلمانوں نے دینی خدمات انجام دینے والوں کی عزت کی تو انہیں عروج حاصل ہوا، اور جب ان سے بے اعتنائی برتی گئی تو امت زوال کا شکار ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ و موذنین کی ضروریات کا خیال رکھنا پوری ملت کی ذمہ داری ہے۔

جمعیت اہل حدیث کے ڈاکٹر آصف عمری نے اس موقع پر مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے علماء کی مشترکہ شرکت کو امت کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ کانگریس قائد عثمان محمد خان نے حکومت تک ائمہ و موذنین کے مسائل پہنچانے اور بھرپور نمائندگی کا تیقن دیا۔

تقریب کی نظامت ڈاکٹر مولانا محمد ہلال اعظمی نے انجام دی جبکہ مولانا ریاض الدین نقشبندی، قاضی عبدالرشید اور صوفی کونسل کے دیگر ذمہ داران نے پروگرام کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ تقریب میں شرکاء کے لیے عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔