رائل اینفیلڈ آندھرا پردیش میں میگا مینوفیکچرنگ ہب قائم کرے گی
کمپنی ضلع تروپتی کے علاقے ستیا ویدو میں، جو آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد کے قریب ہے، ایک جدید ترین مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کے لیے دو مراحل میں تقریباً 2,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔
وجے واڑہ: آندھرا پردیش کے صنعتی اور مینوفیکچرنگ کے عزائم کو ایک بڑی تقویت ملی ہے کیونکہ موٹر سائیکل بنانے والے مشہور برانڈ ‘رائل اینفیلڈ’ نے اپنے نئے مینوفیکچرنگ توسیعی منصوبے کے لیے آندھرا پردیش کا انتخاب کیا ہے۔
یہ 1901 میں کمپنی کے قیام کے بعد سے تمل ناڈو سے باہر اس کی پہلی بڑی توسیع ہے۔
کمپنی ضلع تروپتی کے علاقے ستیا ویدو میں، جو آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد کے قریب ہے، ایک جدید ترین مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کے لیے دو مراحل میں تقریباً 2,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔
اس منصوبے سے رائل اینفیلڈ کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں تقریباً 9 لاکھ یونٹس کا اضافہ متوقع ہے، جس سے عالمی پریمیم موٹر سائیکل مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔
وزیر اعلیٰ این چندربابو نائیڈو کی سربراہی میں آندھرا پردیش اسٹیٹ انوسٹمنٹ پروموشن بورڈ نے اس پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت آندھرا پردیش نے ستیا ویدو منڈل کے دیہات ونیلورو اور رالاکوپم میں اس منصوبے کے لیے 267 ایکڑ زمین الاٹ کی ہے۔
اس منصوبے سے تقریباً 5,000 براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں ایک مخصوص ’وینڈر پارک‘ بھی قائم کیا جائے گا، جو کمپنی کے سپلائر ایکو سسٹم کو آندھرا پردیش لانے اور ریاست میں عالمی معیار کے آٹوموٹیو کلسٹر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا ہدف 2029 مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ 2032 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔
آئی ٹی اور الیکٹرانکس کے وزیر نارا لوکیش نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’رائل اینفیلڈ محض ایک موٹر سائیکل برانڈ نہیں ہے بلکہ یہ ورثے اور پائیدار معیار کی علامت ہے۔ ہمیں اس عالمی شہرت یافتہ کمپنی کو آندھرا پردیش میں خوش آمدید کہتے ہوئے فخر ہے۔
یہ سرمایہ کاری آندھرا پردیش میں کاروبار کرنے کی رفتار اور ہمارے مضبوط انفراسٹرکچر پر اعتماد کا اظہار ہے۔”
اس منصوبے سے آندھرا پردیش کے جنوبی خطے میں صنعتی ترقی تیز ہونے اور نقل و حمل، الیکٹرانکس اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے ریاست کی ساکھ مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔