عطاپور میں “گاؤ رکھشکوں” کی ہنگامہ آرائی،کنٹینر میں جانور نہیں، پلائی ووڈ نکلنے پر بھی پتھراؤ
حیدرآباد کے عطاپور علاقے میں ہفتہ کی دیر رات اُس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب ایک افواہ کی بنیاد پر دو گروہوں کے درمیان پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق خود کو “گاؤ رکھشک” کہنے والے چند افراد نے ایک کنٹینر کو اُس وقت روک لیا جب اُنہیں شک ہوا کہ گاڑی میں جانور منتقل کیے جا رہے ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے عطاپور علاقے میں ہفتہ کی دیر رات اُس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب ایک افواہ کی بنیاد پر دو گروہوں کے درمیان پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق خود کو “گاؤ رکھشک” کہنے والے چند افراد نے ایک کنٹینر کو اُس وقت روک لیا جب اُنہیں شک ہوا کہ گاڑی میں جانور منتقل کیے جا رہے ہیں۔
بعد میں جب گاڑی کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ اُس میں کسی قسم کے جانور موجود نہیں تھے بلکہ کارڈ بورڈ اور پلائی ووڈ کا سامان رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود الزام ہے کہ گاؤ رکھشکوں نے گاڑی پر پتھراؤ کیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
واقعہ کے بعد بڑی تعداد میں مقامی افراد وہاں جمع ہوگئے۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب گاڑی میں جانور تھے ہی نہیں تو پھر حملہ اور ہنگامہ کیوں کیا گیا؟ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے پتھراؤ شروع ہوگیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی، لیکن پتھراؤ میں کم از کم دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ کئی راہگیر بھی متاثر ہوئے۔ اس دوران سڑک پر کھڑی کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور کچھ دیر کیلئے علاقے میں افراتفری کا ماحول بن گیا۔
بعد ازاں سینئر پولیس عہدیدار موقع پر پہنچے اور اضافی فورس تعینات کی گئی تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔ پولیس نے حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے۔
اس دوران Majid Hussain بھی موقع پر پہنچے اور عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ وہ مقامی افراد کے ساتھ کچھ دیر دھرنے میں بھی بیٹھے۔
ماجد حسین نے پولیس کے رویّے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ بار بار پولیس کو بتا رہے تھے کہ گاڑی میں صرف پلائی ووڈ موجود ہے تو پھر حالات کو بگڑنے کیوں دیا گیا؟ اُنہوں نے کہا کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو پتھراؤ اور تشدد کو روکا جاسکتا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ایک معمولی معاملہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی شکل اختیار کرگیا۔ اُن کے مطابق پولیس کو چاہیے تھا کہ گاڑی کو فوری طور پر آصف نگر پولیس اسٹیشن منتقل کرکے معاملہ ٹھنڈا کرتی۔
یہ واقعہ اب کئی سنگین سوالات کھڑے کررہا ہے۔
آخر یہ خود ساختہ “گاؤ رکھشک” کون ہیں؟
اِنہیں سڑکوں پر گاڑیاں روکنے، لوگوں سے پوچھ تاچھ کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کس نے دیا ہے؟
اگر کوئی تاجر قانونی طریقے سے سامان یا جانور منتقل کررہا ہے تو اُسے ہراساں کیوں کیا جارہا ہے؟
کیا چند شرپسند عناصر جان بوجھ کر تلنگانہ کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟
سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا پولیس ایسے عناصر کو قابو کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، یا پھر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی جارہی ہے؟
عوام اب مطالبہ کررہے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر کا امن و امان متاثر نہ ہو اور کسی بے قصور شخص کو صرف افواہوں کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔