یوروپ

روسی شہری اپنا ملک چھوڑنے بے چین

کچھ لوگ سرحد پر گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے بچنے اور پیدل سرحد عبور کرنے پر پابندی کے پیش نظر سائیکلوں پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین جنگ میں ملک کے فوجیوں کو جزوی طور پر جمع کرنے کے اعلان کے بعد خوف زدہ شہریوں میں ملک چھوڑنے کی دوڑ لگی ہے۔

یہ اطلاع بی بی سی کی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔ دوسری جانب کریملن نے ان خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم جارجیا کی سرحد پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں جنگ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے بھی شامل ہیں۔

کچھ لوگ سرحد پر گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے بچنے اور پیدل سرحد عبور کرنے پر پابندی کے پیش نظر سائیکلوں پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعرات کی صبح نو بجے سے سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہا تھا اور رات گئے سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

ایک اور شخص نے یہ بھی کہا کہ اس نے سرحد پار کرنے کے لئے 12 گھنٹے انتظار کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں لڑنے کے لئے فوجیوں کو متحرک کرنے کے روسی حکومت کے فیصلے کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرنے ملک چھوڑ رہا ہے۔

روس کے پڑوسی ممالک میں، جارجیا ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں جانے کے لئے روسی شہریوں کو ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔ روس کی فن لینڈ کے ساتھ 1,300 کلومیٹر لمبی سرحد ہے، لیکن روسی شہریوں کو وہاں جانے کے لیے ویزا درکار ہے۔

فن لینڈ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ رات کے وقت ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوا تھا لیکن یہ قابل کنٹرول حالت میں ہے۔