قومیمذہب

کھانے کے بعد ٹیشو پیپر كا استعمال

آج کل یہ رواج ہوگیا ہے کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بجائے ٹیشو پیپر سے ہاتھ دھو لیا جاتا ہے ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ ( ذو الحسنین، شیخ پیٹ)

سوال:- آج کل یہ رواج ہوگیا ہے کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بجائے ٹیشو پیپر سے ہاتھ دھو لیا جاتا ہے ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ ( ذو الحسنین، شیخ پیٹ)

جواب :- فقہاء نے کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ پوچھنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور اس کو قابل تنبیہ عمل ٹھہرایا ہے :

’’ وحکی عن الحاکم الامام أنہ کان یکرہ استعمال الکواغذ فی ولیمۃ لیمسح بھا الأصابع ، وکان یشدد فیہ ویزجر عنہ زجرا بلیغا‘‘ ( المحیط البرہانی ، کتاب الاستحسان والکراہیۃ : ۵؍۴۰۳)

البتہ یہ حکم اس صورت میں ہے ، جب کہ وہ کاغذ اس لائق ہو کہ اس پر لکھا جائے ، جو کاغذ اس لائق نہ ہو اوراس میں آلائش کو دُور کرنے کی صلاحیت ہو تو اس کی فقہاء نے استنجاء کے لئے بھی استعمال کرنے کی اجازت دی ہے :

’’ وإذا کانت العلۃ فی الأبیض کونہ آلۃ للکتابۃ کما ذکرناہ یوخذ منھا عدم الکراھیۃ فیما لا یصلح لھا إذا کان قالعا للنجاسۃ غیر منقوم کما قدمناہ من جوازہ بالخرق البوالی ۔ (ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، فصل الاستنجاء : ۱؍۳۴۰)