حیدرآباد

حیدرآباد میں شدید گرمی کی لہر نے عوامی صحت کیلئے خطرہ کی گھنٹی بجادی

شہر کے مقامی کلینکس، نرسنگ ہومز اور بڑے اسپتالوں، بشمول Fever Hospital میں مریضوں کی نوعیت میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں گرمی سے متعلق بیماریوں اور آبی انفیکشنز کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد: شہر میں شدید گرمی کی لہر نے عوامی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زائد پہنچنے کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور دیگر گرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اطراف کے اضلاع میں بھی لوگ ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

شہر کے مقامی کلینکس، نرسنگ ہومز اور بڑے اسپتالوں، بشمول Fever Hospital میں مریضوں کی نوعیت میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں گرمی سے متعلق بیماریوں اور آبی انفیکشنز کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق موسم میں اچانک تبدیلیاں انسانی جسم کو متاثر کر رہی ہیں۔ دوپہر کے وقت شدید گرمی جبکہ شام میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے جسم کو ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

اسی وجہ سے سرکاری و نجی اسپتالوں میں ہیٹ ایکزاسشن اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء جلد خراب ہو جاتی ہیں اور لوگ مناسب مقدار میں پانی نہیں پی پاتے، جس کے نتیجے میں شدید اسہال (Acute Diarrhoeal Disease) اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

 خاص طور پر بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیماریوں جیسے دل کے امراض یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد زیادہ خطرے میں ہیں۔

ماہرین نے والدین کو ہدایت دی ہے کہ اگر بچوں کو قے یا کمزوری کی شکایت ہو تو انہیں فوری طور پر ٹھنڈی جگہ پر منتقل کریں اور وقفے وقفے سے ORS یا ناریل پانی دیں۔

 ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بازار میں دستیاب میٹھے مشروبات کو ORS کے طور پر استعمال نہ کریں کیونکہ ان میں زیادہ چینی ہونے سے دستوں کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کے اس موسم میں احتیاط برتیں، زیادہ پانی پئیں، صاف اور تازہ غذا استعمال کریں اور دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کریں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔