تلنگانہ پولیس نے آن لائن دھوکہ دہی کے 17 معاملات میں کئی ریاستوں سے 19 ملزمین کو گرفتار کیا
پولیس کی جانب سے جمعرات کے روز جاری بیان کے مطابق پکڑے گئے معاملات میں سب سے زیادہ دھوکہ دہی 'ٹریڈنگ' سے متعلق تھی۔ ٹریڈنگ دھوکہ دہی کے 11 معاملات میں 12 گرفتاریاں کی گئیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے سائبرآباد کی سائبر کرائم پولیس نے 25 سے 31 مارچ کے درمیان کئی ریاستوں میں چھاپے مارے اور 17 سائبر جرائم کے معاملات کا پردہ فاش کرتے ہوئے 19 مجرموں کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جمعرات کے روز جاری بیان کے مطابق پکڑے گئے معاملات میں سب سے زیادہ دھوکہ دہی ‘ٹریڈنگ’ سے متعلق تھی۔ ٹریڈنگ دھوکہ دہی کے 11 معاملات میں 12 گرفتاریاں کی گئیں۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل اریسٹ کے دو معاملات میں تین، پارٹ ٹائم جاب دھوکہ دہی کے دو معاملات میں دو اور نوکری دلانے کے نام پر دھوکہ دہی کے دو معاملات میں دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کو ایک بڑی کامیابی یہ بھی ملی ہے کہ انہوں نے 125 معاملات میں عدالتوں سے 884 ‘ریفنڈ’ کے احکامات حاصل کیے ہیں۔ اس کے ذریعے متاثرین کو 4.35 کروڑ روپے واپس دلانے کا عمل آسان ہو گیا ہے۔
اس ہفتے کے دوران ایک بڑے معاملے میں پولیس نے اس ٹریڈنگ دھوکہ دہی کا پردہ فاش کیا، جس میں ایک متاثرہ شخص سے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے 2.93 کروڑ روپے کی ٹھگی کی گئی تھی۔
دھوکہ بازوں نے خود کو سرمایہ کاری کے مشیر ظاہر کرکے اور منافع کے جعلی اسکرین شاٹس دکھا کر متاثرہ کو دھوکے میں لیا اور بھاری منافع کے نام پر کئی بینک کھاتوں میں رقم منتقل کروا لی۔
اس معاملے میں تلنگانہ کے رہنے والے دو ملزمین شیکھر اور تنیس کمار پرجاپتی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دھوکہ دہی کی رقم کو ادھر اُدھر منتقل کرنے کے لیے بینک کھاتے فراہم کیے۔