حیدرآباد

شمس آباد ایئرپورٹ کو بم دھماکے کی ای میل، سیکیورٹی ہائی الرٹ پر

اطلاعات کے مطابق ای میل موصول ہوتے ہی سی آئی ایس ایف نے فوری طور پر بم دھماکہ انتباہ پروٹوکول کو نافذ کرتے ہوئے ایئرپورٹ کے حساس علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کردیا۔ آمد اور روانگی کے ٹرمینلز، پارکنگ ایریاز، کارگو زون اور دیگر اہم مقامات پر سخت سیکیورٹی چیکنگ کی گئی۔

حیدرآباد: راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ شمس آباد کو ایک بار پھر بم دھماکے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر آگئے۔ گزشتہ چند دنوں میں یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے، جس نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
سونے کی اسمگلنگ 3 افراد ایرپورٹ پارکنگ سے گرفتار
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا

اطلاعات کے مطابق ای میل موصول ہوتے ہی سی آئی ایس ایف نے فوری طور پر بم دھماکہ انتباہ پروٹوکول کو نافذ کرتے ہوئے ایئرپورٹ کے حساس علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کردیا۔ آمد اور روانگی کے ٹرمینلز، پارکنگ ایریاز، کارگو زون اور دیگر اہم مقامات پر سخت سیکیورٹی چیکنگ کی گئی۔

سنیفر ڈاگ اسکواڈ اور بم اسکواڈ نے مشکوک اشیاء اور بغیر نگرانی کے پڑے سامان کی باریک بینی سے تلاشی لی۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں اور عملے سے تعاون کی اپیل کی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا ہے اور معاملہ کی جانچ جاری ہے کہ آیا یہ دھمکی اصلی ہے یا ایک جھوٹی کارروائی۔

فلائٹس معمول کے مطابق چل رہی ہیں تاہم اضافی چیکنگ کے باعث مسافروں کو کچھ دیر تک تاخیر اور اضافی سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑا۔

سائبر کرائم پولیس نے ای میل بھیجنے والے کا سراغ لگانے اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی اور تمام ضروری اقدامات نافذ رہیں گے۔

مزید تفصیلات کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔