حیدرآباد

حیدرآباد میں اسٹیرائیڈ انجکشن اور باڈی بلڈنگ ادویات کی غیر قانونی فروخت کے معاملے میں چھ افراد گرفتار

پولیس نے ہفتہ کے روز بتایا کہ مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مشیرآباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ٹرمین، میفینٹرمائن سلفیٹ انجکشن، دیگر کارکردگی بڑھانے والی ادویات اور باڈی بلڈنگ سپلیمنٹس ضبط کیے گئے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں پولیس نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اسٹیرائیڈ انجکشن اور باڈی بلڈنگ میں استعمال ہونے والی ادویات حاصل کرنے اور فروخت کرنے کے الزام میں ایک آن لائن جم ٹرینر اور ایک اینستھیزیا ٹیکنیشن سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔


پولیس نے ہفتہ کے روز بتایا کہ مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مشیرآباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ٹرمین، میفینٹرمائن سلفیٹ انجکشن، دیگر کارکردگی بڑھانے والی ادویات اور باڈی بلڈنگ سپلیمنٹس ضبط کیے گئے۔


گرفتار افراد کی شناخت بٹے شیوا (32) اور محمد فرقان الدین فیصل (28) کے طور پر ہوئی ہے، جنہیں مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا اصل سپلائر بتایا جا رہا ہے۔ دیگر ملزمان میں محمد سیف (20)، فرزان خان (20)، محمد یوسف (26) اور سومبٹینی ابھیلاش (24) شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ذیلی فروخت کنندگان کے طور پر کام کر رہے تھے۔


پولیس کے ڈپٹی کمشنر (ٹاسک فورس) ویبھَو گائیکواڑ رگھوناتھ نے بتایا کہ اتر پردیش اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ سپلائرز کی شناخت کر لی گئی ہے، تاہم وہ اس وقت مفرور ہیں۔


پولیس نے کارروائی کے دوران ٹرمین کی 440 شیشیاں، میفینٹرمائن سلفیٹ انجکشن کی 336 شیشیاں، ٹیسٹوسٹیرون اینانتھیٹ کے 50 ایمپول، سومیٹروپن انجکشن، ڈروسٹانولون پروپیونیٹ انجکشن، امینو ایسڈ سپلیمنٹس، 336 گولیاں، دو موبائل فون اور دیگر باڈی بلڈنگ ادویات ضبط کیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 6.5 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔


پولیس کے مطابق فٹنس انڈسٹری سے وابستہ دونوں مرکزی ملزمان بغیر کسی قانونی طبی نسخے کے آن لائن ای-کامرس پلیٹ فارم کے ذریعے اسٹیرائیڈ انجکشن اور کارکردگی بڑھانے والی ادویات منگواتے تھے اور بعد میں انہیں زیادہ قیمت پر مقامی ڈیلروں کو فروخت کرتے تھے۔ تحقیقات جاری ہیں۔