سائنس

کائنات کے راز جاننے کی جانب بڑا قدم جدید ترین کیمرہ فعال

کائنات کا اس طرح مطالعہ کرتے ہوئے دیکھیں گے جیسا کہ وہ پہلے کبھی نہیں کر سکے تھے

سینٹیاگو : دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرہ نے کائنات کی حیران کردینے والی تصاویر لینا شروع کردیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ویرا سی روبن آبزرویٹری نے باضابطہ طور پر اپنا کائنات کا سروے شروع کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دوربین چِلی کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر موجود ہے جو اگلے 10 سالوں تک ہر رات سینکڑوں تصاویر لے گی۔محققین کو امید ہے کہ روبن کے مشاہدات سے انہیں کائنات کی بہتر مردم شماری کرنے میں مدد ملے گی۔

اس حوالے سے آبزرویٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز فل مارشل نے کہا کہ ہم دنیا بھر میں بڑی تعداد میں سائنسدانوں کو اس ڈیٹا سیٹ کے ساتھ کام کرتے اور کائنات کا اس طرح مطالعہ کرتے ہوئے دیکھیں گے جیسا کہ وہ پہلے کبھی نہیں کر سکے تھے۔

روبن نے گزشتہ سال اپنی پہلی تصاویر جاری کی تھیں، جن میں زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر واقع ‘ٹرائیفڈ اور لیگون نیبولا کی رنگین تصاویر بھی شامل تھیں۔یاد رہے ایک نوری سال تقریباً 6 ٹریلین میل (9.7 ٹریلین کلومیٹر) کے برابر ہوتا ہے۔یہ تصاویر سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ اربوں سالوں کے دوران کہکشائیں کیسے بنتی اور اکٹھی ہوتی ہیں، اور کائنات کا وجود کیسے عمل میں آیا۔