دہلیسوشیل میڈیا

دہلی احتجاج میں زخمی طالب علم کی بینائی خطرے میں، ساحل پولیس میں ملازمت کے خواب دیکھ رہا تھا

ساحل کے قریبی دوست پرویش کے مطابق، چوٹ براہِ راست آنکھ پر لگی۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایک اور سرجری کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان کی بینائی کس حد تک واپس آ سکتی ہے۔ اس وقت وہ شدید درد میں ہیں اور دیکھنے سے قاصر ہیں۔

نئی دہلی: "چلو سنسد” طلبہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچب کی بینائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ افراد خاندان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے ان کی مکمل بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد بتائے ہیں، جبکہ دہلی پولیس نے پیلیٹ گنز کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ساحل لوچب کو احتجاج کے دوران زخمی ہونے کے بعد پہلے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج (LHMC) منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں ایمس ٹراما سینٹر ریفر کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی پتلی شدید متاثر ہوئی ہے اور چوٹ مبینہ طور پر پیلیٹ لگنے سے آئی ہے۔

ساحل کے افراد خاندان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں دہلی پولیس میں ملازمت حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ فاصلاتی تعلیم کے ساتھ ایس ایس سی کمبائنڈ گریجویٹ لیول (SSC-CGL) امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔

ساحل کے قریبی دوست پرویش کے مطابق، چوٹ براہِ راست آنکھ پر لگی۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایک اور سرجری کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان کی بینائی کس حد تک واپس آ سکتی ہے۔ اس وقت وہ شدید درد میں ہیں اور دیکھنے سے قاصر ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی میں پہلی مرتبہ شہری مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز، جن میں دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) شامل ہیں، نے مبینہ طور پر پیلیٹ گنز کا استعمال کیا۔ تاہم دہلی پولیس اور متعلقہ سکیورٹی اداروں نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیلیٹ گنز استعمال نہیں کی گئیں۔

ساحل لوچب اس احتجاج کے دوران پیلیٹ نما زخموں کے مبینہ طور پر سامنے آنے والے چوتھے متاثرہ شخص بتائے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری بھی احتجاج کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ انہیں لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں آنکھ کے نیچے پھنسے مبینہ دھاتی پیلیٹ کو نکالنے کے لیے سرجری کرانی پڑی۔ بتایا گیا کہ وہ کناٹ پلیس کے پالیکا بازار کے قریب احتجاج میں شریک تھے، جہاں ان کے چہرے اور گردن پر چوٹیں آئیں۔

اسی احتجاج کے دوران 21 سالہ ساکشی بھی شدید زخمی ہوئیں۔ وہ کئی روز تک رام منوہر لوہیا اسپتال میں وینٹی لیٹر پر رہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ان کی حالت میں بہتری آئی ہے، وہ ہوش میں ہیں، خود سانس لے رہی ہیں اور علاج پر مثبت ردِعمل ظاہر کر رہی ہیں۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک اور شخص کے جسم پر بھی پیلیٹ جیسے زخم دکھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان ویڈیوز اور دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اضح رہے کہ پیلیٹ گن ایسا ہتھیار ہے جس کی گولی میں متعدد چھوٹے دھاتی ذرات ہوتے ہیں، جو فائر ہونے کے بعد وسیع علاقے میں پھیل کر شدید چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔

فی الحال اس معاملے پر دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف زخمی طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ پیلیٹ گنز کے استعمال کا الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دہلی پولیس اور سکیورٹی فورسز ان الزامات کو مسترد کر رہی ہیں۔ اس معاملے کی حقیقت کسی سرکاری یا آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔