دو بیویوں میں سے ایک کو بیرونِ ملک ساتھ لے جانا
ایک شخص کی دو بیویاں ہیں تو ان دونوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے ، اگر شوہر بیرونِ ملک رہتا ہو تو وہ جس کو چاہے اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے یا دونوں کو اپنے ساتھ رکھنا لازم ہوگا؟(محب الله، كھمم)
سوال:- ایک شخص کی دو بیویاں ہیں تو ان دونوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے ، اگر شوہر بیرونِ ملک رہتا ہو تو وہ جس کو چاہے اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے یا دونوں کو اپنے ساتھ رکھنا لازم ہوگا؟(محب الله، كھمم)
جواب:- بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا سلوک کرنا واجب ہے ، فقہاء نے اس سلسلہ میں کھانے کپڑے اور شب گذاری کا ذکر کیا ہے کہ ان چیزوں میں دونوں بیویوں کے درمیان برابری ضروری ہے:
وفی الماکول والملبوس … والنوبۃ لھذہ لیلۃ ولھذہ لیلۃ ( تاتار خانیہ: ۱۰؍۳۵۷)
شب گذاری میں یکسانیت کی ایک صورت یہ ہے کہ باری باری دونوں کے یہاں ایک ایک شب گذارے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک بیوی کے یہاں چند رات گذارے اور اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے یہاں:
وإن شاء أقام عند کل واحدۃ ثلثۃ أیام ، لأن المستحق علیہ التسویۃ الخ(حوالۂ سابق)
البتہ میاں بیوی کے خصوصی تعلق میں برابری ضروری نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ مکمل طورپر اختیاری چیز نہیں ہے ؛ بلکہ نشاط اور طبعی آمادگی پر موقوف ہے ؛ البتہ یہ درست نہیں کہ ایک بیوی سے تعلق رکھے اور دوسری سے بالکل بے تعلق ہوجائے ، فقہاء نے یہ صراحت کی ہے کہ اگر شوہر سفر پر جارہا ہوتو بیوی کے درمیان ساتھ لے جانے میں برابری ضروری نہیں ہے ،
اگر وہ ایک ہی بیوی کو ساتھ لے جانا چاہتا ہو تو وہ اپنی مرضی سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتا ہے ؛ کیوںکہ سفر میں ایسے رفیق کی ضررت ہوتی ہے جو انسان کیلئے معاون و مددگار بنے اور ممکن ہے کہ ایک خاتون میں وہ صلاحیت ہو اور دوسری اس سے خالی ہو ؛ البتہ بہتر ہے کہ ایسی صورت میںقرعہ اندازی کرلے اور جس کے نام کا قرعہ نکلے اس کو اپنے ساتھ رکھے:
والاولیٰ أن یضرب بالقرعۃ لیکون أقرب إلی العدل وأبعد من المیل(تاتار خانیہ: ۴؍۳۵۸)
مگر سفر سے مراد ایسا سفر ہے جس کا مقصد صرف آمد و رفت ہو قیام نہ ہو ، جو لوگ بیرونِ ملک فیملی کو لے جاتے ہیں ان کا مقصد وہاں مستقل طورپر قیام کرنا ہوتا ہے اور مہینوں بعض اوقات سالوں وہاں قیام کرتے ہیں ، ایسے شخص پر واجب ہے کہ یا تو دونوں بیویوں کو اپنے ساتھ لے جائیں ، یا باری باری ایک مقررہ مدت کے لئے یکے بعد دیگرے دونوں کو لے جائیں ،
مثلاً چھ چھ ماہ کے لئے ، اور یہ مدت اتنی طویل نہ ہو جو ساتھ نہ لے جائے جانے والی بیوی کے لئے تکلیف دہ ہوجائے ، یا اس کی وجہ سے اس کی عفت و عصمت کو خطرہ درپیش ہو ، ایک بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا اور دوسری کو مستقل طورپر دور رکھنا جائز نہیں ہے اور عند اللہ سخت پکڑ کا باعث ہے ۔