اگر نماز کے اندر ہی سجدۂ تلاوت یاد آجائے؟
اگر ایک شخص نماز میں آیت سجدہ پڑھے ؛ لیکن سجدۂ تلاوت کرنا بھول گیا ، پھر اخیر میں اس کو نماز ہی کی حالت میں یاد آیا تو کیا اسے سجدۂ تلاوت کرنا چاہئے؟
سوال:- اگر ایک شخص نماز میں آیت سجدہ پڑھے ؛ لیکن سجدۂ تلاوت کرنا بھول گیا ، پھر اخیر میں اس کو نماز ہی کی حالت میں یاد آیا تو کیا اسے سجدۂ تلاوت کرنا چاہئے؟ اب اگر وہ نہیں کرپایا تو ایسی صورت میں اس کے لئے سجدۂ تلاوت کرنے کی کیا صورت ہوگی؟
(عبد الكریم، ملك پیٹ)
جواب:- اگر نماز کے اندر آیت سجدہ پڑھی اور اس وقت سجدہ نہیں کرسکا اور نماز کے اندر ہی یہ بات یاد آگئی تو نماز کے ختم ہونے سے پہلے تک سجدۂ تلاوت کرنے کی گنجائش ہے ، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بالکل آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ تلاوت ادا کرلے ؛
البتہ اگر نماز کے اندر بھی بعد میں سجدۂ تلاوت کرے گا تو سجدۂ تلاوت میں تاخیر کی وجہ سے سجدۂ سہو بھی واجب ہوجائے گا ، پہلے سجدۂ تلاوت کرے ، پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرلے:
ولو تذکر سجدۃ التلاوۃ فی آخر الصلاۃ وسجد لھا ، ھل یلزمہ سجود السہو بھذا التاخیر؟ نص علیہ عصام أنہ یلزمہ (تاتار خانیہ: ۴؍۴۱۸)