مشرق وسطیٰ

قطر کے شمالی ساحل کے قریب ٹینکر پر متعدد میزائلوں سے حملہ، متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع

یو کے ایم ٹی او کے مطابق یہ جہاز بدھ کو مدینۃ الشمال سے تقریباً 94 کلومیٹر (58 میل) شمال میں سفر کررہا تھا جب اسے متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب برطانوی بحری ایجنسی نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

دوحہ: قطر کے شمالی ساحل کے قریب ایک ٹینکر پر متعدد میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔


یو کے ایم ٹی او کے مطابق یہ جہاز بدھ کو مدینۃ الشمال سے تقریباً 94 کلومیٹر (58 میل) شمال میں سفر کررہا تھا جب اسے متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب برطانوی بحری ایجنسی نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔


یو کے ایم ٹی او نے ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد نہیں بتائی اور کہا کہ حکام واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ایجنسی نے جہاز کے ملکیت یا رجسٹریشن سے متعلق بھی کوئی تفصیل نہیں دی۔


خلیج کے وسطی علاقے میں کسی بحری جہاز پر حملہ غیر معمولی واقعہ ہے۔ تجارتی جہاز رانی سے متعلق اشاعت ”میری ٹائم ایگزیکٹو” نے کہا کہ یہ چند ہفتوں کے دوران خلیج کے مغربی حصے میں کسی ٹینکر پر حملے کی پہلی رپورٹ ہے۔ قطر نے اس حملے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ واقعہ قطر کے خصوصی اقتصادی زون میں پیش آیا۔

اس سے قبل بحری جہازوں کو زیادہ تر خلیج اور خلیج عمان کو ملانے والی تنگ اور انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔


28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی بحری جہاز گزرتے تھے اور اس راستے سے ہونے والی ترسیل دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد تھی۔


امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کردیا، جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔


یو کے ایم ٹی او نے منگل کو بتایا کہ رواں ماہ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر نو حملے ہوچکے ہیں، جو صرف اس آبی گزرگاہ اور خلیج میں ستمبر کے دوران ہونے والے مجموعی حملوں کی تعداد کا نصف ہیں۔


حملوں کے باوجود حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور عارضی اعداد و شمار کے مطابق یہ جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرگئی ہیں۔


اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کیپلر کے مطابق 30 ستمبر کو مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات کی سات روزہ متحرک اوسط 18.3 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جبکہ جنگ سے قبل کے 12 ماہ کے دوران یہ اوسط تقریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھی۔