’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ احتجاج: راہول گاندھی حراست میں،چیف منسٹر ریونت ریڈی کو بھی ملاقات سے روک دیا گیا
یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف جاری ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات پر احتجاج کیا جارہا ہے۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہول گاندھی کو دہلی پولیس نے ’ووٹر بچاؤ، ملک بچاؤ‘ احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا۔ انہیں بعد میں بارہ کھمبا پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔
یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف جاری ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات پر احتجاج کیا جارہا ہے۔
راہول گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے دوران تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی بھی ان سے اظہار یکجہتی کے لیے دہلی پہنچے۔ تاہم دہلی پولیس نے انہیں بھی روک دیا۔
’ووٹر بچاؤ، ملک بچاؤ‘ احتجاج قومی دارالحکومت میں مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا۔ احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر اپنے اعتراضات کا اظہار کیا۔
کانگریس نے SIR کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست کرنا اور غیر اہل، ڈپلیکیٹ یا دیگر غیر درست اندراجات کو دور کرنا ہے۔
راہول گاندھی کی حراست اور ریونت ریڈی کو روکے جانے کے واقعہ کے بعد اپوزیشن اور حکام کے درمیان انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔