تلنگانہ حکومت کا بڑا دل، حج عازمین کیلئے اضافی خرچ برداشت کرکے دل جیتنے کی کامیاب حکمتِ عملی
تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وہ صرف مالی مدد تک محدود نہ رہے بلکہ سفر، رہائش، سعودی حکام سے رابطہ اور عازمین کی مکمل رہنمائی جیسے تمام امور پر بھی خصوصی توجہ دے۔ اگر اس ماڈل کو ملک کی دیگر ریاستیں بھی اپنائیں تو اقلیتی طبقات میں اعتماد بڑھے گا اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
تحریر: محمد عبدالجلیل
حج 2026 کے مقدس سفر پر جانے والے تلنگانہ کے ہزاروں مسلمانوں کیلئے ریاستی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے نہ صرف مالی بوجھ کم کیا بلکہ عوام کے دلوں میں حکومت کیلئے احترام اور اعتماد بھی بڑھا دیا۔ وزیر اعلیٰ A. Revanth Reddy کی قیادت میں تلنگانہ حکومت نے مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی کرایوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے فی حاجی 10 ہزار روپے کے اضافی بوجھ کو خود برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے ریاست کے تقریباً 7 ہزار حج عازمین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
یہ قدم صرف مالی مدد نہیں بلکہ ایک دانشمندانہ اور دور اندیش سیاسی و سماجی حکمتِ عملی بھی سمجھی جا رہی ہے۔ متوسط اور غریب خاندانوں کیلئے حج زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے، ایسے میں اضافی خرچ حکومت کی جانب سے برداشت کرنا یقیناً ایک بڑا سہارا ہے۔ اس فیصلے نے ممکنہ ناراضگی کو خوشی اور خیرسگالی میں تبدیل کردیا۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے نامپلی حج ہاؤس میں پہلے قافلے کو خود جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ان کی ذاتی موجودگی نے مسلم برادری کو یہ احساس دلایا کہ ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت ان کے مذہبی جذبات کی قدر کرتی ہے۔ ماضی میں اکثر ایسے مواقع پر صرف وزراء یا سرکاری افسران شرکت کرتے تھے، جس سے کمیونٹی خود کو نظر انداز محسوس کرتی تھی، لیکن اس مرتبہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا۔
مسلمان اپنے مذہب اور دینی شعائر سے گہری جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ ایسے اقدامات وقتی فائدے سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ جو رہنما مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، وہ لوگوں کے دلوں میں دیرپا جگہ بنا لیتے ہیں۔ تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے اس نفسیات کو بخوبی سمجھا ہے۔ اقلیتی بہبود کے وزیر Mohammed Azharuddin کی نگرانی میں اقلیتی امور میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ برس مدینہ منورہ میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد حکومت کا فوری ردِعمل بھی عوام آج تک نہیں بھولے۔ اس حادثے میں تلنگانہ کے 44 عمرہ زائرین جاں بحق ہوئے تھے۔ حکومت نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کیلئے 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا کا اعلان کیا، سعودی عرب میں انتظامات کی نگرانی کیلئے وزارتی ٹیم روانہ کی اور لواحقین کے سفر کا بھی بندوبست کیا۔ غم کے وقت اس طرح کی ہمدردانہ کارروائیاں عوام کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
بعض ناقدین اسے خوشامد یا ووٹ بینک کی سیاست قرار دے سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ انسانی ہمدردی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی مثال ہے۔ حج کوئی عیش و آرام کا سفر نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے ایک اہم مذہبی فریضہ ہے، جسے اکثر لوگ پوری زندگی کی جمع پونجی سے ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرے تاکہ وہ مالی پریشانیوں کے بجائے مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنی عبادت انجام دے سکیں۔
تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وہ صرف مالی مدد تک محدود نہ رہے بلکہ سفر، رہائش، سعودی حکام سے رابطہ اور عازمین کی مکمل رہنمائی جیسے تمام امور پر بھی خصوصی توجہ دے۔ اگر اس ماڈل کو ملک کی دیگر ریاستیں بھی اپنائیں تو اقلیتی طبقات میں اعتماد بڑھے گا اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
ریونت ریڈی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ مذہبی جذبات کا احترام اور بہتر حکمرانی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ حج عازمین جب اپنے مقدس سفر پر روانہ ہوں گے تو وہ صرف حکومت کی مالی مدد ہی نہیں بلکہ اس کی جذباتی وابستگی بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔ یہی وہ طرزِ قیادت ہے جو انتخابات سے آگے بڑھ کر عوام کے دلوں میں دیرپا اعتماد پیدا کرتی ہے۔