قانونی مشاورتی کالمقومی

تلنگانہ ایس آئی آر: ڈرافٹ رول میں نام ہے اور نوٹس نہیں آئی تو آگے کیا ہوگا؟

میرا نام ایاز محمد خان ہے اور میں پنشن پورہ لنگر حوض حیدرآباد کا ساکن ہوں۔ مجھے ایس آئی آر کے تعلق سے تفصیلات درکار ہیں۔ جن افراد نے اینومریشن فارمس داخل کئے تھے۔ ان تمام افراد کے نام ڈرافٹ رول میں آگئے ہیں۔

سوال: میرا نام ایاز محمد خان ہے اور میں پنشن پورہ لنگر حوض حیدرآباد کا ساکن ہوں۔ مجھے ایس آئی آر کے تعلق سے تفصیلات درکار ہیں۔ جن افراد نے اینومریشن فارمس داخل کئے تھے۔ ان تمام افراد کے نام ڈرافٹ رول میں آگئے ہیں۔ اب جن کو نوٹس موصول ہوئی ہے۔ سماعت کے بعد ان کے مسائل حل ہوں گے۔ باقی وہ خوش نصیب افراد ہیں جنہیں کوئی نوٹس نہیں ملے ہیں۔ کیا ان کے نام قطعی ووٹر لسٹ میں بغیر کوئی شک و شبہ کے شامل ہو جائیں گے یا کوئی خدشہ ہے۔ اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب : ریاست تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کا کام جاری ہے۔ ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کی تکمیل ہو چکی ہے۔ 17 اگست کو ڈرافٹ رول کی اشاعت عمل میں لائی گئی۔ ڈرافٹ رول ریاست تلنگانہ کے تمام 119 اسمبلی حلقوں کی جاری کی گئی۔ ڈرافٹ رول کی اجرائی کے بعد اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ریاست میں تقریباً 92 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کی جائےگی۔

نوٹسس کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جملہ 92 لاکھ افراد کو نوٹسیں جاری کی جائیں گی جن میں 60 لاکھ ایسے ووٹرس ہیں جن کے ناموں میں لاجیکل ڈسکریپینسی یا تضاد اور اینملیز پائی گئی ہیں۔ ماباقی 32 لاکھ ایسے ووٹرز ہیں جن کی 2002 کی فہرست رائے دہندگان سے کسی قسم کی کوئی میاپنگ نہیں ہو سکی ہے۔ اینومریشن فارمس داخل کرنے والے تمام افراد کے نام ڈرافٹ رول میں شامل کئے گئے ہیں اور ان میں لاجیکل ڈسکرپینسیز، اینملیز اور میاپنگ نہ ہونے والے 92 لاکھ ووٹرس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اب ایس آئی آر کے تحت 16ستمبر 2026 تک ادعاجات اور اعتراضات کا مرحلہ جاری ہے ۔ ایس آئی آر کے تحت اب جو اہم کام جاری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ایسے افراد جن کی سال 2002 کی فہرست سے کوئی میاپنگ نہیں ہو سکی اور ایسے افراد جو اینومریشن فارمس داخل ہی نہیں کئے ہیں۔ جن کے نام کسی بھی وجہ سے ڈرافٹ رول میں شامل نہیں کئے گئے ہیں یا کسی کو غیر حاضر، منتقل، فرضی، انتقال یا ڈبل انٹری کی کیٹگری میں نشان زد کیا گیا ہے۔

ایسے تمام ووٹرس کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ ادعاجات اور اعتراضات کے ذریعہ سے پھر سے اپنے نام فہرست رائے دہندگان میں درج کروانے کے لئے درخواست داخل کریں۔ اگر کوئی اسمبلی حلقہ تبدیل کرتے ہیں یا پولنگ بوتھ تبدیل کرتے ہیں تو اس سلسلہ میں بھی ترمیمات،ادعاجات ،اعتراضات کے ادخال کا بھی یہی مرحلہ ہے جس کے لئے درخواست داخل کی جا سکتی ہے۔ درخواست گزاری کا جو طریقہ کار ہے۔ اس سلسلہ میں چار اہم درخواست فارم مہیا کئے گئے ہیں۔

فارم نمبر چھ کے تحت نئے ووٹر کے طور پر نام کو فہرست رائے دہندگان میں شامل کروایا جا سکتا ہے۔ فارم نمبر چھ اے کے تحت اوورسیز انڈین جو ہندوستان کے باہر مقیم ہیں۔ ایسے افراد اپنا نام ووٹرلسٹ میں درج کروانے کے لئے یہ فارم استعمال کر سکتے ہیں۔ فارم 7 کے تحت فہرست میں درج ناموں پر اعتراضات یا حذف کے لئے یہ فارم استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فارم نمبر آٹھ پتہ کی تبدیلی، نئے فوٹو آئیڈنٹٹی کارڈ کے حصول، ووٹر آئی ڈی کارڈ میں کسی بھی طرح کی ترمیم کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اب ایس آئی آر کے تحت ادعاجات اور اعتراضات کا عمل جاری ہے اور نوٹسیں دی جا رہی ہیں۔ 15 اکتوبر تک یہ مرحلہ جاری رہے گا۔ اس کے بعد 19 اکتوبر کو قطعی فہرست رائے دہندگان کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ اگر کسی وجہ سے تاریخ بڑھائی جاتی ہے تو تاریخ میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ورنہ فی الحال تو فائنل فہرست رائے دہندگان کی اجرائی کی تاریخ 19 اکتوبر مقرر ہے۔

ہم کو یہ اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر فائنل لسٹ میں کسی کا نام نہیں آتا ہے تو اس سلسلہ میں ای آر او کو باضابطہ ایک آرڈر پاس کرنا چاہئے اور اس آرڈر کی بنیاد پر باضابطہ طور پر اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ ای آر او کے آرڈر کے خلاف پہلی اپیل اندرون 15 یوم ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے پاس داخل کی جا سکتی ہے۔ سکینڈ اپیل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے آرڈر کے خلاف اندرون 30 یوم چیف الیکٹورل آفیسر کے پاس داخل کی جا سکتی ہے۔

بہرحال کئی مرحلوں میں یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے کہ حقیقی اور مستحق ووٹرس کا نام کسی بھی طرح سے ووٹرلسٹ سے غائب نہ ہو۔ ہم کو چاہئے کہ سب سے پہلے ڈرافٹ رول میں اپنا نام چیک کریں۔ اگر کوئی نوٹس آئی ہے تو نوٹس کا مطالعہ کریں اور کس وجہ سے نوٹس آئی ہے۔ اس کے تعلق سے بی ایل او یا بی ایل اے سے رہنمائی حاصل کریں۔ شہر میں ایسے کئی سنٹرس قائم کئے گئے ہیں جہاں ووٹرس کی رہنمائی کی جارہی ہے۔

دکن ایڈوکیٹس فورم کی جانب سے بھی ہر اتوار کو سلور ووکس کامپلکس مانصاحب ٹینک حیدرآباد پر صبح 10 بجے سے پانچ بجے شام تک رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ اوپن ہاؤس منعقد کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا نوٹس کے مطابق جواب دیا جائے۔ ایس آئی آر کے تعلق سے کسی بھی قسم کے مسئلہ کی صورت میں آپ سنٹر سےرجوع ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو نوٹس نہیں آئی ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ ایسے تمام افراد کے نام قطعی فہرست رائے دہندگان میں شامل ہو جائیں گے۔