تلنگانہ

تلنگانہ کے گجویل ٹاؤن میں تصادم کے بعد کشیدگی

تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل قصبے میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب شیواجی کے مجسمے کے پاس مبینہ طور پر پیشاب کرنے کے الزام میں ایک شخص پر حملہ کیا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل قصبے میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب شیواجی کے مجسمے کے پاس مبینہ طور پر پیشاب کرنے کے الزام میں ایک شخص پر حملہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی

اس شخص کو، جو نشے کی حالت میں تھا، مبینہ طور پر اس کی حرکت کی وجہ سے برہنہ کر پریڈ کرائی گئی۔

اس واقعے پر مختلف برادریوں کے گروپوں میں تصادم ہوا جس میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔

پولیس افسران نے مظاہرین کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ ملوث پائے جانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کریں گے۔

اس واقعہ کے خلاف احتجاج اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے چند تنظیموں نے منگل کو گجویل میں بند کی کال بھی دی۔

گجویل اسمبلی حلقہ کی نمائندگی تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کرتے ہیں۔

دریں اثناء مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے رہنما امجد اللہ خان خالد نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس اس واقعہ کو خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی تھی۔

انہوں نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور سدی پیٹ کمشنر پر زور دیا کہ وہ تحقیقات کا حکم دیں، ساتھ ہی اقلیتی برادری کے لیے سیکورٹی کا بھی مطالبہ کیا۔