تلنگانہ

تلنگانہ کے گجویل ٹاؤن میں تصادم کے بعد کشیدگی

تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل قصبے میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب شیواجی کے مجسمے کے پاس مبینہ طور پر پیشاب کرنے کے الزام میں ایک شخص پر حملہ کیا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل قصبے میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب شیواجی کے مجسمے کے پاس مبینہ طور پر پیشاب کرنے کے الزام میں ایک شخص پر حملہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

اس شخص کو، جو نشے کی حالت میں تھا، مبینہ طور پر اس کی حرکت کی وجہ سے برہنہ کر پریڈ کرائی گئی۔

اس واقعے پر مختلف برادریوں کے گروپوں میں تصادم ہوا جس میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔

پولیس افسران نے مظاہرین کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ ملوث پائے جانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کریں گے۔

اس واقعہ کے خلاف احتجاج اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے چند تنظیموں نے منگل کو گجویل میں بند کی کال بھی دی۔

گجویل اسمبلی حلقہ کی نمائندگی تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کرتے ہیں۔

دریں اثناء مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے رہنما امجد اللہ خان خالد نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس اس واقعہ کو خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی تھی۔

انہوں نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور سدی پیٹ کمشنر پر زور دیا کہ وہ تحقیقات کا حکم دیں، ساتھ ہی اقلیتی برادری کے لیے سیکورٹی کا بھی مطالبہ کیا۔