رام چندراپورم میں پجاری کی کمسن لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ،حساس واقعات پر فوری پہنچنے والے بی جے پی قائدین اب کہاں ہیں؟
الزام ہے کہ سائیانا نامی ایک عمر رسیدہ پجاری نے مندر کو باہر سے بند کرنے کے بعد کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔ مقامی افراد نے پجاری کو لڑکی کے ساتھ مبینہ نازیبا حالت میں دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی۔
حیدرآباد: سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کے حدود میں رام چندراپورم کے ایک مندر میں کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے نے تشویش پیدا کردی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ایک سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس معاملے پر بی جے پی کے وہ قائدین خاموش کیوں ہیں جو اکثر ایسے واقعات پر فوری طور پر موقع پر پہنچ کر احتجاج کرتے ہیں؟
الزام ہے کہ سائیانا نامی ایک عمر رسیدہ پجاری نے مندر کو باہر سے بند کرنے کے بعد کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔ مقامی افراد نے پجاری کو لڑکی کے ساتھ مبینہ نازیبا حالت میں دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی۔
واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن ابھی تک یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ اس واقعے پر بی جے پی کے مقامی یا ریاستی قائدین کی جانب سے کوئی بڑا احتجاج یا عوامی ردِعمل کیوں سامنے نہیں آیا؟
خاص طور پر بی جے پی کی رہنما مادھوی لتا کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں وہ بعض حساس واقعات کے مقام پر پہنچ کر متاثرین سے ملاقات اور احتجاج کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا انہیں رام چندراپورم میں پیش آئے اس واقعے کی اطلاع نہیں ملی، یا انہوں نے اس معاملے پر کوئی ردِعمل ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر بھی بعض افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر متاثرہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ ایک مندر میں پیش آیا ہے تو اس پر سیاسی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے فوری آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟
تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پولیس تحقیقات ابھی جاری ہیں اور واقعے سے متعلق الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ کسی بھی سیاسی رہنما یا تنظیم کی خاموشی کی وجہ بھی اس وقت تک واضح نہیں ہے، جب تک ان کی جانب سے باقاعدہ بیان سامنے نہ آئے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کے قائدین، مقامی سیاسی نمائندے اور مادھوی لتا اس واقعے پر کیا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں اور کیا متاثرہ کمسن لڑکی کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔