دہلی

پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہندوستان کا سپریم قانون ساز ادارہ ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ صدر اور دو ایوانوں، راجیہ سبھا (ریاستوں کی کونسل) اور لوک سبھا (عوام کا ایوان) پر مشتمل ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی ہے جس میں سپریم کورٹ کو یہ ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کے بجائے ملک کے صدر کے ذریعہ کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں
دہلی میں بی آر ایس کے مرکزی دفتر کا جلد افتتاح
نیٹ امتحان پر برہمی کی گونج پارلیمنٹ میں سنائی دے گی: کانگریس
راہل نے خط لکھ کر مرمو سے اگنی ویر اسکیم میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
نیٹ تنازعہ، سی بی آئی تحقیقات سے سپریم کورٹ کا انکار

درخواست گزار سی آر جیا سوکن، جو پیشے سے سپریم کورٹ کے وکیل ہیں، نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا سکریٹریٹ نے صدر کو افتتاحی تقریب میں مدعو نہ کرکے ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایسا کرنے سے آئین کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘

درخواست گزار وکیل نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیاکہ ’’لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے 18 مئی کو جاری کردہ بیان اور نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے افتتاح کے سلسلے میں لوک سبھا کے سکریٹری جنرل کی طرف سے جاری کردہ دعوت نامہ ایک من مانی طریقہ ہے، جوبالکل بھی مناسب نہیں ہے۔”

درخواست گزار وکیل نے کہا کہ معاملہ جلد سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواب دہندگان، مرکزی حکومت اور لوک سبھا سکریٹریٹ سبھی نے اس معاملے میں ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہندوستان کا سپریم قانون ساز ادارہ ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ صدر اور دو ایوانوں، راجیہ سبھا (ریاستوں کی کونسل) اور لوک سبھا (عوام کا ایوان) پر مشتمل ہے۔ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایوان کو طلب کر سکتا ہے اور اسے معطل کر سکتا ہے۔ نیز صدر کے پاس پارلیمنٹ یا لوک سبھا کو تحلیل کرنے کا اختیار ہے۔

درخواست گزار سوکن نے اپنی درخواست میں کہا کہ صدر پارلیمنٹ کا اٹوٹ انگ ہیں لیکن صدر کو سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے دور رکھا گیا اور اب وہ افتتاحی تقریب کا حصہ بھی نہیں ہیں، حکومت کا یہ من مانی فیصلہ ہے۔ بالکل مناسب نہیں ہے۔”

اس سے قبل بدھ کو بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، جس کی قیادت اڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کی تھی، نے دارالحکومت میں نئی ​​تعمیر شدہ پارلیمنٹ کی عمارت کے افتتاح کے "تاریخی موقع” پر منعقد پروگرام میں شرکت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ صدر اور پارلیمنٹ جیسے ادارے کو ایسے کسی تنازعہ سے دور رکھا جائے جس سے ان کی عزت و وقار متاثر ہو۔

ہم خیال اپوزیشن کی 19 جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت میں پارلیمانی جمہوریت پر حملہ ہوا ہے اور نئی عمارت کی تعمیر میں اپوزیشن جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، اس لیے ہم خیال جماعتوں نے نئی پارلیمنٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب کا اجتماعی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے کل ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ ’’پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح ایک اہم موقع ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ مودی حکومت جمہوریت کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

اس حکومت نے ایک آمرانہ انداز میں نئی ​​پارلیمنٹ کی تعمیر کی ہے، اپوزیشن کے افتتاحی تقریب کے موقع پر اختلافات بھلانے کے لیے تیار ہونے کے باوجود حکومت نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر صدر دروپدی مرمو کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے وزیر اعظم سے اس کا افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ ہماری جمہوری روایت پر براہ راست حملہ ہے۔

a3w
a3w