امریکہ و کینیڈا

امریکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا

تاہم بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کے قتل عام نے دنیا کو بھی اسرائیل کا شیطانی چہرہ دکھا دیا ہے، حتیٰ کہ اب صہیونی ریاست کا سب سے بڑا محافظ امریکہ بھی دو ریاستی حل کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

واشنگٹن: فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر حیران کن بڑے حملے کے بعد سے اگرچہ صہیونی فورسز کی غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں میں روز بہ روز شدت آتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
امریکہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے، انٹونی بلنکن کا اہم بیان
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ نے فرانس کا بڑا انعام ’فریڈم پرائز‘ جیت لیا
اسرائیل حماس مذاکرات شروع کریں، غزہ کے لوگ زیادہ انتظار نہیں کر سکتے: سعودی عرب
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او

 تاہم بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کے قتل عام نے دنیا کو بھی اسرائیل کا شیطانی چہرہ دکھا دیا ہے، حتیٰ کہ اب صہیونی ریاست کا سب سے بڑا محافظ امریکہ بھی دو ریاستی حل کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو اسرائیل کے جوابی حملوں کی حمایت کرنے پر عرب ممالک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے بعد امریکہ کو بھی اپنے بیانات میں تبدیلی لانی پڑی ہے، اور وہ فلسطینی شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کی ضرورت پر زور دینے لگا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کو اسرائیل کے دورے کے موقع پر مطالبہ کیا کہ جنگ میں توقف کیا جائے تاکہ غزہ کے متاثرین کو امداد پہنچائی جا سکے اور کہا کہ دو ریاستی حل ہی ’قابل عمل راستہ ہے بلکہ واحد راستہ ہے۔‘

تل ابیب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انٹونی بلنکن نے دو ریاستی حل کو واحد محفوظ، یہودی اور جمہوری اسرائیل کا ضامن قرار دیا، انٹونی بلنکن نے دو ریاستی حل کو فلسطینیوں کا بھی واحد ضامن قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ یہی حل انھیں اپنی ریاست میں جینے کا جائز حق دیتا ہے۔

https://twitter.com/totalrondom/status/1720633355987734650

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل سے فلسطینیوں کو برابر کی سکیورٹی، آزادی، وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا، اور یہی پرتشدد واقعات کے اس چکر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ 30 سال قبل اوسلو معاہدے کے تحت دو ریاستی حل پر اتفاق ہوا تھا تاہم اس پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا، جب کہ فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے میں انتہائی محدود خودمختاری دی گئی اور بعد میں امریکا نے اس مقصد میں ٹھوس سفارتی کوششیں نہیں کیں۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ اسرائیل بے سود رہا ہے، جنگی جنون میں مبتلا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں سیز فائر کا امکان رد کر دیا، امریکی وزیر خارجہ آج عمان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، اور قطر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

a3w
a3w