حیدرآباد

زیرِ حراست مبینہ بدسلوکی پر ٹرینی آئی پی ایس افسر ادے کرشنا ریڈی کی سی پی سجنار کے خلاف مجسٹریٹ سے شکایت

ٹرینی آئی پی ایس افسر ادے کرشنا ریڈی نے پولیس حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی، دھمکیوں، گالی گلوچ اور تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے سی پی سی پی سجنار اور دیگر پولیس عہدیداروں کے خلاف اپل مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت درج کرائی ہے۔

حیدرآباد: ٹرینی آئی پی ایس افسر ادے کرشنا ریڈی نے پولیس حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی، دھمکیوں، گالی گلوچ اور تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے سی پی سی پی سجنار اور دیگر پولیس عہدیداروں کے خلاف اپل مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت درج کرائی ہے۔

ادے کرشنا ریڈی کی پولیس حراست ختم ہونے کے بعد انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس عہدیدار بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔ ادے نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز کی پوچھ تاچھ کے دوران سی پی سجنار نے انتہائی قابل اعتراض زبان استعمال کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔

ادے کرشنا ریڈی نے مبینہ طور پر مجسٹریٹ کو بتایا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو "انکاؤنٹر” کرنے کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہیں وکلاء کی طرح ختم کردینے کی دھمکی دی گئی تھی۔

ٹرینی آئی پی ایس افسر نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں ٹاسک فورس کے دفتر لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پوچھ تاچھ ایسے مقام پر کی گئی جہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے۔

ادے کے وکلاء نے عدالت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ ریٹائرڈ اے سی پی پورن چندر راؤ پوچھ تاچھ میں کس حیثیت سے شریک ہوئے۔ وکلاء نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی جانب سے بغیر سی سی ٹی وی نگرانی کے مقام پر پوچھ تاچھ کس طرح کی گئی۔

ادے کرشنا ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ اٹاپور پولیس نے دورانِ حراست مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کی، ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام پولیس عہدیداروں کے خلاف شکایات درج کرائیں گے جنہوں نے حراست کے دوران ان سے پوچھ تاچھ کی۔

عدالت میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ادے کرشنا ریڈی جذباتی ہوگئے اور مبینہ طور پر آبدیدہ بھی ہوگئے۔ انہوں نے مجسٹریٹ سے سی پی سجنار سمیت پوچھ تاچھ میں شامل پولیس عہدیداروں کو نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی۔

شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ 13 تلگو ٹرینی آئی پی ایس افسران کی زندگیوں کو بھی تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ ادے کے وکلاء نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ حراست اور پوچھ تاچھ کے پورے معاملے کی جانچ کی جائے۔

مجسٹریٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹاپور پولیس کو نوٹس جاری کیا اور وضاحت طلب کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اٹاپور انسپکٹر کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے اور متعلقہ وضاحت دو دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ادے کرشنا ریڈی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے، جبکہ عدالت کے نوٹس کے بعد پولیس کا موقف سامنے آنا متوقع ہے۔