امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، تاہم امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، تاہم امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش


وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر کے رہے گا۔


انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران پر شدید دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحریہ ایران کے خلاف سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔


ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے فولادی محاصرے کے ذریعے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔


امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر موجود رہے اور امریکہ ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو حاصل کرنے کے بعد انہیں تباہ کرنے پر کام کرے گا۔


سمندری تجارت سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے کھلا رہنا چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری معاملے پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔


اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستانی حکام آج تہران جا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔


رپورٹس کے مطابق تہران پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورے کا منتظر ہے، جو اسلام آباد کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔


یاد رہے کہ تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجویز پر غور کر رہا ہے۔