قومی

وجے اور ترشا کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے معاملے میں ادے ندھی اسٹالن گرفتار

اس تقریر کی براہ راست نشریات کئی چینلوں پر ہوئی تھی اور یہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو گئی تھی، جس کے بعد شدید مخالفت دیکھنے کو ملی۔ اسی کے پیش نظر تنجاوور ایسٹ پولیس نے ادے ندھی کے خلاف آئی ٹی ایکٹ سمیت چھ مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔

چنئی: تمل ناڈو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) یوتھ ونگ کے سربراہ ادے ندھی اسٹالن کو پولیس نے منگل کو گرفتار کرلیا۔

یہ گرفتاری تنجاوور میں کاویری ندی کے پانی اور میکیداتو معاملے پر ہوئے ایک احتجاج کے دوران برسرِ اقتدار تاملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے بانی اور وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے اور اداکارہ ترشا کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اور ہتک آمیز تبصرے کے معاملے میں کی گئی ہے۔


اس تقریر کی براہ راست نشریات کئی چینلوں پر ہوئی تھی اور یہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو گئی تھی، جس کے بعد شدید مخالفت دیکھنے کو ملی۔ اسی کے پیش نظر تنجاوور ایسٹ پولیس نے ادے ندھی کے خلاف آئی ٹی ایکٹ سمیت چھ مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔


تنجاوور سے آئی ایک خصوصی پولیس ٹیم نے گریٹر چنئی پولیس کے ساتھ مل کر بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسٹر ادے ندھی کی نیلانکرائی میں واقع رہائش گاہ پہنچ کر انہیں گرفتار کیا۔ جب سینئر پولیس حکام ان کے اہل خانہ کو حراست کی وجہ بتا رہے تھے، تبھی کئی اعلیٰ ڈی ایم کے رہنما اور سابق وزراء ان کے گھر پہنچ گئے۔

ساتھ ہی، بڑی تعداد میں ڈی ایم کے کارکنان ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے اور ٹی وی کے حکومت پر بدلے کے جذبے سے کام کرنے اور جھوٹے مقدمات تھوپنے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔


جب مسٹر ادے ندھی کو پوچھ گچھ کے لیے لے جانے کی غرض سے پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا، تو ڈی ایم کے کارکنوں نے گاڑی کو روک لیا اور ان کے گھر کے باہر اچانک احتجاج شروع کر دیا۔ اس گرفتاری کے خلاف پوری ریاست میں سڑک جام اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ احتجاج کرنے والے درجنوں ڈی ایم کے کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔


پارلیمنٹ کے احاطے میں ڈی ایم کے اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور اس گرفتاری کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔


دوسری طرف، برسرِ اقتدار ٹی وی کے نے بھی شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد میں پولیس میں شکایت درج کرا کر اپوزیشن لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مسٹر ادے ندھی کی یہ گرفتاری اسمبلی کے بجٹ اجلاس شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے ہوئی ہے۔ اس دوران، جب ڈی ایم کے کے وکیلوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مدراس ہائی کورٹ میں فوری سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے پیشگی ضمانت کی عرضی دی، تو جسٹس جی کے النتیریان نے دوپہر میں اس پر فوری سماعت کرنے کی بات کہی۔


مسٹر ادے ندھی کے ان بیانات کی ہر طرف مذمت ہوئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت تقریباً تمام جماعتوں نے خواتین کی تذلیل کرنے والے غیر مہذب اور غیر شائستہ تبصروں کے لیے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مسٹر وجے کے کئی کابینی وزراء نے بھی سوشل میڈیا پر ان کے بیانات کے خلاف سخت اعتراض کیا۔


یہ پورا معاملہ کل تنجاوور میں پناگل بلڈنگ کے باہر ہوئے ایک ڈی ایم کے مظاہرے سے جڑا ہے، جس میں ادے ندھی نے کاویری کے پانی، میکیداتو ڈیم اور زرعی قرض معافی کے تعلق سے ٹی وی کے حکومت کی تنقید کی تھی۔


تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ کاویری ڈیلٹا کی ندیاں سوکھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سابق وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی اقتدار میں ہوتے، تو کیا ایسی صورتحال پیدا ہوتی۔ اس کے بعد، جب ہجوم نے اداکارہ ترشا کا نام لیا، تو انہوں نے وزیر اعلیٰ وجے کے خلاف کچھ متنازع تبصرے کر دیے، جس کے باعث ان کے ان مبینہ توہین آمیز تبصروں پر شدید تنازع پیدا ہو گیا۔


ٹی وی کے کے قومی ترجمان پاژا سیلواکمار نے قومی کمیشن برائے خواتین کو بھی ایک درخواست سونپی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسٹر ادے ندھی نے وزیر اعلیٰ اور ایک خاتون کے خلاف ہتک آمیز تبصرے کیے ہیں۔


اس درخواست میں کمیشن سے اس تقریر کا نوٹس لینے، پولیس کو قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دینے نیز مسٹر ادے ندھی سے وضاحت اور بلا مشروط عوامی معافی کی مانگ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔