برطانیہ میں عجیب و غریب واقعہ خود کو ویمپائر سمجھنے والا شخص گرفتار
ملزم نے اپنے متاثرین سے معذرت بھی کی اور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے اچھا کیا۔
لندن : برطانیہ میں خود کو ’ویمپائر‘ سمجھنے والے ایک شخص کو جانوروں کو قتل کرکے ان کا خون پینے اور لاشیں جنگل میں گرجا گھروں کے باہر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
48 سالہ بینجمن لیوس مقامی کسانوں کے مویشی چوری کر کے انہیں قتل کرتا اور ان کا خون پیتا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کا ماننا تھا کہ جانوروں کا خون پینے سے وہ ہمیشہ زندہ رہ سکے گا، جہنم سے بچ جائے گا اور ویمپائر بن جائے گا۔ پولیس نے ’ٹریپ لیوس‘ نامی آپریشن کے دوران اہم مذہبی اور شیطانی کیلنڈر کی تاریخوں پر گرجا گھروں کے اطراف نگرانی شروع کی، جس کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کو ملزم تک پہنچنے میں ایک بھیڑ کے بچے کی باقیات سے ملنے والے ڈی این اے شواہد نے مدد فراہم کی۔
عدالت میں لیوس نے خود کو ’کاؤنٹ ڈریکولا‘ کے نام سے متعارف کرایا۔اس نے سنگین نوعیت کے الزامات، جن میں جان بوجھ کر ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے، ذہنی اذیت دینے اور مویشی چوری کرنے کے الزامات شامل ہیں جن کا اس نے اعتراف کیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ لیوس کو فی الحال اسپتال میں زیرِ حراست رکھا جائے گا اور اس کی رہائی کا فیصلہ ذہنی صحت سے متعلق ٹریبونل یا وزیرِ انصاف کی جانب سے اسے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔
ملزم نے اپنے متاثرین سے معذرت بھی کی اور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے اچھا کیا۔
پولیس چیف جیسیکا سرمین نے اس کیس کو اپنے کیریئر کا سب سے غیر معمولی مقدمہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب بھی لگتا تھا کہ اس کیس کی عجیب و غریب نوعیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، تو کوئی نیا واقعہ سامنے آ کر صورتِ حال کو مزید حیران کن بنا دیتا تھا۔
پولیس کے مطابق لیوس کو اس سے قبل بھی 2003ء میں ایک خاندان کو خود کو ویمپائر ظاہر کر کے خوفزدہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔