جرائم و حادثات

اٹاوہ میں ڈبل ڈیکر بس میں خوفناک آتشزدگی، 40 مسافروں نے کود کر جان بچائی

اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ میں پیر کی علی الصبح آگرہ-کانپور ہائی وے پر دہلی سے راٹھ جا رہی ڈبل ڈیکر بس میں ہولناک آگ لگنے سے افرا تفری مچ گئی۔ بس میں سوار تقریباً 40 مسافروں نے وقت رہتے نیچے اتر کر اپنی جان بچائی۔ حادثے میں مسافروں کا لاکھوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔

اٹاوہ: اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ میں پیر کی علی الصبح آگرہ-کانپور ہائی وے پر دہلی سے راٹھ جا رہی ڈبل ڈیکر بس میں ہولناک آگ لگنے سے افرا تفری مچ گئی۔ بس میں سوار تقریباً 40 مسافروں نے وقت رہتے نیچے اتر کر اپنی جان بچائی۔ حادثے میں مسافروں کا لاکھوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔


پولیس کے مطابق، واقعہ فرینڈز کالونی علاقے میں سیا دیوی میموریل اسپتال کے سامنے صبح تقریباً چار بجے پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، بس میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ مسافروں کو بس سے نیچے اترنے کا بمشکل وقت مل سکا۔


مسافروں کے مطابق، بس دہلی سے رات تقریباً نو بجے راٹھ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ راستے میں ایک ڈھابے پر کھانا کھانے کے بعد بس دوبارہ چلی۔ کچھ دور جانے کے بعد مسافروں کو بس کے پچھلے حصے میں آگ لگنے اور جلنے کا احساس ہوا۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مسافروں کو نیچے اترنے کے لیے کہا۔ مسافروں کے بس سے اترتے ہی آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔


اطلاع ملتے ہی فائر برگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور تقریباً دو گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ پولیس اور انتظامی حکام نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا۔ بعد میں کرین کی مدد سے جلی ہوئی بس کو ہائی وے سے ہٹا کر کنارے کھڑا کرایا گیا۔ مسافروں کو دوسری بسوں کے ذریعے ان کی منزل کی طرف روانہ کرنے کا انتظام کیا گیا۔


حادثے میں کسی مسافر کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم مسافروں کا سامان جل کر تباہ ہو گیا۔ کئی مسافروں نے اپنے پاس سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان ہونے کی بات کہی ہے۔ مسافر پنکی نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے علاج کے سلسلے میں دہلی گئی تھی اور آگ میں اس کا پورا سامان اور علاج سے متعلق ضروری دستاویزات جل گئے۔ اس نے تقریباً دو لاکھ روپے سے زائد کے نقصان کا تخمینہ بتایا۔


مسافروں نے بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر پر آگ لگنے کے بعد موقع سے فرار ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے دوران انہیں اپنا سامان بچانے کا کافی موقع نہیں ملا اور بڑی مقدار میں سامان جل گیا۔ مسافروں نے ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اٹاوہ کے سی او سٹی اونیش کمار سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں بس میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کی بات سامنے آئی ہے۔ حادثے میں کسی مسافر کو چوٹ نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مسافروں کا سامان جلا ہے، اگر وہ درخواست دیتے ہیں تو ان کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔