امریکہ و کینیڈا

امریکہ ۔ ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط

اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران پیرس کے ورسلز پیلس میں دستخط کیے، جبکہ ایران کے صدر پزشکیان نے تہران میں اس پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں کے دستخط کے بعد ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے سے یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔

پیرس: امریکہ اور ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا دعوی


اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران پیرس کے ورسلز پیلس میں دستخط کیے، جبکہ ایران کے صدر پزشکیان نے تہران میں اس پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں کے دستخط کے بعد ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے سے یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔


بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 14 نکاتی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ تاہم امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا لازمی نہیں ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے چار ماہ بعد طے پایا ہے۔


ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو کارکردگی پر مبنی قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایران کو فائدہ تبھی ہوگا جب وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران میں جنگ ختم ہوگی اور لبنان میں بھی تنازعہ ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکہ کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی ذکر ہے۔


فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر مسٹر ٹرمپ کے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے بدھ کو لکھا کہ صدر ٹرمپ نے آج رات ورسلز میں ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ دیرپا امن کی راہ ہموار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہمارے ہم وطنوں کے لیے درست سمت میں ایک ضروری قدم ہے جس سے جلد ہی توانائی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔