شمالی بھارت

حجام نے مدد کرنے والی پڑوسی خاتون کے 2 بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا

پولیس عہدیدار نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق بچوں کے قتل کا واحد ملزم ساجد انکاؤنٹر ماراگیا۔ واضح رہے کہ کل بدیوں میں ہوئے انکاؤنٹر میں ایک انسپکٹر کو بھی گولی لگی تھی۔

نئی دہلی: اترپردیش کے بدایوں میں منگل کی شام 2 معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل  کر دیا گیا۔ یہ واقعہ منڈی چوکی سے قریب پیش آیا۔ اس معاملہ میں پولیس نے ایک ملزم کو انکاؤنٹر میں ماردیا ہے۔ یوپی پولیس کا کہنا ہے کہ ساجد نامی شخص، جو حجام کی دکان چلاتا ہے، 8 بجے کے قریب اپنی دکان بند کر کے سامنے رہنے والے ونود کے گھر پہنچا۔

متعلقہ خبریں
بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کے ’انکاؤنٹر بیانات‘ پر یوپی میں ہنگامہ
سیما کے قبضہ سے 4 موبائل فون، 5 پاکستانی پاسپورٹ برآمد
فیروزآباد کا نام چندرا نگر رکھنے کی تجویز کو منظوری
نوجوان کی خودکشی، تبدیلی مذہب کیلئے دباؤڈالنے کا الزام
بچے کے ساتھ بدفعلی

 دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ دونوں کے درمیان کچھ پرانا جھگڑا چل رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ساجد ونود کے گھر گیا اورونود کی بیوی سے چائے بنانے کو کہا۔ اسی دوران وہ چھت پر گیا اور ونود کے تین بچوں آیوش، آہان اور پیوش پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر دیا۔

  مرنے والے بچوں کے والد ونود کمار نے بتایا کہ "ساجد میرے گھر آیا اور میری بیوی سے کہا، ‘بھابی مجھے 5 ہزار روپے دو، میری بیوی کی پیدائش ہونے والی ہے، میں نے اپنی بیوی سے دینے کی بات کی۔

 اسی دوران سازش ہوئی، اس نے میرے بڑے بیٹے سے پانی منگوایا اور چھوٹے بیٹے کو پارلردیکھ آنے کو کہا اور اس دوران اس نے ان کو مار ڈالا، پھر اس نے میری بیوی سے کہا کہ آج میں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ میری بیوی نے شور مچایا تو آس پاس کے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ساجد باہر کھڑے اپنے بھائی جاوید کے ساتھ موٹر سائیکل لے کر بھاگ گیا۔

پولیس کے مطابق ساجد کے حملہ میں ونود کا 13 سالہ بیٹا آیوش اور 7 سالہ بیٹا آہان کی موت ہوگئی۔ جبکہ 6 سالہ پیوش کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ بچوں کو قتل کرنے کے بعد ساجد بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔

لیکن اس نے پولیس پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ساجد کو مقابلہ میں مار دیا۔ پولیس افسر کے مطابق انتخابات کے پیش نظر فورسز وہاں پہلے سے موجود تھیں۔

اس واقعہ کے خلاف کچھ لوگوں نے احتجاج کیا لیکن انہیں سمجھانے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ اے ڈی جی بریلی، آئی جی راکیش سنگھ موقع پر موجود ہیں اور فی الحال علاقے میں امن برقرار ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق بچوں کے قتل کا واحد ملزم ساجد انکاؤنٹر ماراگیا۔ آپ کو بتا دیں کہ کل بدیوں میں ہوئے انکاؤنٹر میں ایک انسپکٹر کو بھی گولی لگی تھی۔ دو بچوں کے قتل کے ملزم نے پولیس کے گھیرے میں آنے کے بعد انکاؤنٹر کے وقت سول پولیس اسٹیشن کے انچارج گورو بشنوئی پر فائرنگ کردی۔ زخمی انسپکٹر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

متاثرہ ونود کمار کے مطابق ساجد گھر میں داخل ہوا اور 5000 روپے کا مطالبہ کیا۔اس نے بتایا کہ اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس کے بعد بچوں کی ماں سنگیتا نے فوراً اپنے شوہر ونود کو فون کیا۔ جس کے بعد اس کے شوہر نے ساجد سے پانچ ہزار روپے دینے کو کہا۔ جس کے بعد سنگیتا نے ساجد سے چائے کے لیے کہا۔

 اس پر ساجد نے بتایا کہ ہسپتال پہنچنے میں ابھی دو گھنٹے باقی ہیں۔ جیسے ہی سنگیتا چائے بنانے گئی، ساجد نے اپنے بڑے بیٹے آیوش سے کہا کہ وہ اسے اپنی ماں کا پارلر دکھائے۔

جیسے ہی آیوش اسے پارلر دکھانے کے لیے دوسری منزل پر لے گیا، ساجد نے لائٹ بند کر دی اور آیوش کو چاقو سے کاٹ کر قتل کر دیا۔ اس دوران جیسے ہی چھوٹا بیٹا آہان پانی لے کر پہنچا تو ساجد نے اسے پکڑ کر مار ڈالا۔

 ساجد نے پیوش پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس کے انگوٹھے پر چھری لگی اور سر پر تھپڑ مارا گیا لیکن وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اس دوران ساجد اپنے بھائی جاوید کے ساتھ موٹر سائیکل پر وہاں سے بھاگ گیا۔

بے گناہوں کے قتل سے مشتعل ہو کر لوگوں نے ساجد کی دکان کے باہر کا سامان جلا دیا۔ پولیس اس واقعہ میں ساجد کا کردار ہی بتا رہی ہے۔ لیکن اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ساجد کے ساتھ اس کا بھائی جاوید بھی آیا تھا۔ ان دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دو معصوم لوگوں کی جان لینے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔