مغربی بنگال ’جنگل راج‘ کی طرف بڑھ رہا ہے مہوا موئترا
نئے بنگال (اتر پردیش 2.0) میں خوش آمدید۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کوئی حکومت نہیں، بلکہ جنگل راج ہے۔
کولکاتا : مغربی بنگال کے باروئی پور میں 12 سالہ لڑکی کے مبینہ اجتماعی زیادتی اور قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزمان میں سے ایک کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بدھ کو پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست "جنگل راج” کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ”باروئی پور زیادتی اور قتل کیس کا ملزم پربھاس منڈل پولیس مقابلے میں مارا گیا! مغربی بنگال پولیس، یہ کیا ہو رہا ہے؟ بنگالیو، نئے بنگال (اتر پردیش 2.0) میں خوش آمدید۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کوئی حکومت نہیں، بلکہ جنگل راج ہے۔”
پربھاس منڈل کی موت باروئی پور کے سورج پور علاقے میں رات گئے پولیس کارروائی کے دوران گولی لگنے سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق جاری تحقیقات کے تحت واقعے کی منظر کشی کے لیے اسے آدھی رات کے بعد جائے وقوعہ پر لے جایا گیا تھا، جہاں اس نے مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
تحقیقات کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ بار بار انتباہ کے باوجود ملزم بھاگتا رہا، جس کے بعد اسے فرار ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے گولی چلائی۔ گولی لگنے کے بعد اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
اس پولیس مقابلے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے اور مہوا موئترا کے بیان کے بعد ملزم کی ہلاکت کے حالات پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اگرچہ پولیس کا کہنا ہے کہ گولی اپنے دفاع اور ملزم کو حراست سے فرار ہونے سے روکنے کے لیے چلائی گئی، تاہم اس مقابلے تک پہنچنے والے واقعات پر سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
باروئی پور میں 12 سالہ بچی کے مبینہ اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے نے پورے مغربی بنگال میں شدید عوامی غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ اس مقدمے کی تحقیقات پر عوام اور سیاسی حلقوں کی گہری نظر برقرار ہے۔