امریکہ و کینیڈا

امریکہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی

حکام نے واضح کیا کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف ملک گیر کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے جون کے آخری پانچ دنوں کے دوران تقریباً 10 ہزار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے مطابق ملک بدری کی مہم کو تیز کرنے کے بعد ادارے کی تحویل میں موجود افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر تقریباً 39 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جاری مہم کا بنیادی ہدف ایسے غیرقانونی تارکینِ وطن ہیں جو قتل، جنسی جرائم، بچوں سے زیادتی، گینگ سرگرمیوں، دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر گرفتار کرکے ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا اور وفاقی ادارے مختلف ریاستوں میں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کارروائیاں مزید تیز کریں گے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن کے حامی گروپوں نے ان کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسیع پیمانے پر گرفتاریوں سے کئی ایسے خاندان بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن کے افراد برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران قانونی تقاضوں اور انسانی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عوامی سلامتی کا تحفظ، سرحدی قوانین کا نفاذ اور غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور اسی مقصد کے تحت ملک بدری کی مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔