شمالی بھارت

رام مندر تنازع کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس صورتحال سنبھالنے میں مصروف

ی جے پی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ (ایم پی) نے بتایا کہ، "سویم سیوکوں (رضاکاروں) کو گھر گھر بھیج کر خاص طور پر بڑے عطیہ دہندگان سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے

لکھنؤ : ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا (عطیات) سے جڑے تنازع کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اتر پردیش میں بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ پارٹی قیادت کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے اور اس کے انتخابی نتائج پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق، پارٹی کا ہدف عوام میں پھیلی ناراضگی کو کم کرنا اور اپوزیشن کے ان الزامات کا جواب دینا ہے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ مندر میں چڑھائے گئے چندے اور قیمتی اشیاء کی مبینہ چوری کے معاملات میں پارٹی اور سنگھ نے وقت رہتے مناسب کارروائی نہیں کی۔

بی جے پی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پارٹی نے خاص طور پر اتر پردیش یونٹ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ عوام تک یہ پیغام پہنچائے کہ مرکز اور ریاستی حکومت نے معاملہ سامنے آتے ہی قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن پر اس معاملے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگانے کی حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق، حال ہی میں اتر پردیش کے دورے کے دوران بی جے پی صدر نتن نبین نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ اس معاملے میں "چوک” (غلطی) ہوئی ہے، لیکن رہنماؤں کو آپسی الزام تراشی سے بچنا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اپوزیشن اس تنازع کو انتخابی مسئلہ بنا کر مذہبی عقیدت سے جڑے معاملے کو سیاسی رنگ دینا چاہتی ہے۔

دوسری طرف ، آر ایس ایس بھی الگ سے عوامی رابطہ مہم چلانے پر غور کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ (ایم پی) نے بتایا کہ، "سویم سیوکوں (رضاکاروں) کو گھر گھر بھیج کر خاص طور پر بڑے عطیہ دہندگان سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے مقررہ حد سے زیادہ عطیہ دیا ہے اور جن کے پاس رسیدیں موجود ہیں، انہیں مندر میں محفوظ رکھی گئی ان کی بھینٹ (عطیات) کا براہِ راست تصدیق (ویریفکیشن) کرانے کی تجویز بھی ہے۔” رکنِ پارلیمنٹ نے بتایا کہ سنگھ کے سینئر عہدیداروں کا ماننا ہے کہ عطیہ کی گئی ہر چیز کا پورا حساب ہونا چاہیے اور عقیدت مندوں کے ذہنوں میں اگر کوئی شک و شبہ ہے تو اسے دور کرنا ضروری ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر اپنی حکمت عملی تیز کر دی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ 20 جولائی سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں اپوزیشن اس معاملے کو زبردست طریقے سے اٹھائے گی۔ ایسے میں بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں اس تنازع سے ہونے والے سیاسی نقصان کو کم کرنے کے لیے جارحانہ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے لوگوں کا بھروسہ پھر سے مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔