قومی

11 اکتوبر کو کیا ہونے والا ہے؟سائنس دان کیوں ہیں فکر مند؟ آسمان سے آنے والی یہ آفت کتنی خطرناک ہوسکتی ہے؟

ناظرین، سورج سے خارج ہونے والے توانائی سے بھرپور ذرات کے دو بڑے بادل تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ذرات 11 اکتوبر کو زمین کے قریب پہنچ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں درمیانی شدت کا جیو میگنیٹک طوفان پیدا ہونے کا امکان ہے۔

نئی دہلی: سورج سے خارج ہونے والے توانائی سے بھرپور ذرات کے دو بڑے بادل تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ذرات 11 اکتوبر کو زمین کے قریب پہنچ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں درمیانی شدت کا جیو میگنیٹک طوفان پیدا ہونے کا امکان ہے۔

اس طوفان کے باعث سیٹلائٹ، ریڈیو سگنلز اور نیویگیشن نظام عارضی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ اس کے حقیقی اثرات کا انحصار زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ ان ذرات کے تعامل پر ہوگا۔

سورج سے جب بڑی مقدار میں توانائی اور چارج شدہ ذرات خلا میں خارج ہوتے ہیں تو ان میں سے بعض زمین کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ ذرات جب زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو اس میں تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جسے جیو میگنیٹک طوفان کہا جاتا ہے۔

امریکی ادارے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق ان طوفانوں کو شدت کے اعتبار سے پانچ زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں جی ون معمولی اور جی فائیو انتہائی شدید طوفان ہوتا ہے۔ موجودہ پیش قیاسی کے مطابق 11 اکتوبر کو جی ٹو سطح کا درمیانی شدت کا طوفان پیدا ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق 7 اور 8 اکتوبر کو سورج سے ذرات کے دو بڑے بادل خارج ہوئے تھے۔ دوسرا بادل پہلے کے مقابلے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس لیے امکان ہے کہ دونوں بادل زمین تک پہنچنے سے پہلے ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو زمین کے مقناطیسی میدان پر ان کا اثر بڑھ سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں ریڈیو مواصلات کے سگنلز کمزور پڑ سکتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ پر مبنی نیویگیشن نظام کی درستگی بھی عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ زمین کے قطبی علاقوں کے قریب بجلی کے نظام میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کا امکان بھی رہتا ہے۔

تاہم ناظرین، اس خبر سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ درمیانی شدت کے شمسی طوفان کی پیش گوئی کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ بند ہو جائے گا یا بجلی کی فراہمی ٹھپ ہو جائے گی۔

اس کے اثرات کا اندازہ طوفان کی اصل شدت اور زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ اس کے تعامل کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ شمسی طوفان کے دوران بعض ممالک میں آسمان پر رنگ برنگی روشنیاں بھی دکھائی دے سکتی ہیں، جنہیں اورورا کہا جاتا ہے۔

جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، موجودہ اندازوں کے مطابق ملک میں عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر کسی بڑے اثر کا امکان ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ ملک گیر بجلی کٹوتی یا مواصلاتی نظام کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے خدشات کی بھی فی الحال کوئی واضح بنیاد نہیں ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں اورورا دکھائی دینے کی توقع بھی نہیں ہے۔

اس لیے 11 اکتوبر کو ممکنہ شمسی طوفان کے حوالے سے سائنس دان مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور اس کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔