سیاستمضامین

تــــــوہـیــــن قــــــرآنانوکھا لیکن انتہائی مؤثر‘ مدلل و مہذب احتجاج

مسعود ابدالی

ایک ہفتے سے جاری ہیجان، خلجان و بحران بلکہ ذہنی اذیت کا 15 جولائی کو خوبصورت اختتام ہوگیا۔ مسلمانانِ عالم کے قلب و جگر پر دو دہائیوں سے توہین و تضحیکِ قرآن و صاحبِ قرانؐ کے تیر برس رہے ہیں، لیکن اِس بار مسیحیوں اور یہودیوں نے بھی اس اذیت کا مزہ چکھ لیا۔
ہوا کچھ اس طرح کہ سویڈن کے دارالحکومت میں پولیس کمشنر کو ایک درخواست موصول ہوئی جس میں مسیحی اور عبرانی اناجیل جلانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ آگے بڑھنے سے پہلے عبرانی انجیل پر چند سطور۔ عبرانی انجیل کو تناخ بھی کہا جاتا ہے جو دراصل تورہ (توریت) ، نبیّم(عبرانی تلفظ نویم)، اور کتابم (عبرانی تلفظ کیتووم) کا مجموعہ ہے۔
توریت مصحف کے بجائے طومار (scroll)کی شکل میں ہے۔ یہ ہدایات و الہامی احکامات، نبیّم، قصص الانبیا اور کتابم، ترانہِ دائودؑ (زبور) سمیت آسمانی صحیفوں یا اسفارات الکتابات پر مشتمل ہے۔
تناخ کا ایک نام مقرا بھی ہے یعنی باربار پڑھی جانے والی کتاب۔ آج کل مسیحی انجیل، New Testament اور عبرانی انجیل Old Testament کہلاتی ہے۔ یہودی چونکہ نبوتِ عیسیٰؑ کے منکر ہیں اس لیے وہ New Testamentکو برحق نہیں مانتے، جبکہ مسیحیوں کی اکثریت تناخ میں درج اخلاقی قوانین کو تو تسلیم کرتی ہے لیکن عبرانی انجیل میں درج آداب اور مراسم عبودیت سے متعلق احکامات جیسے قربانی، حلال و حرام، طہارت وغیرہ کو نہیں مانتی۔ یعنی حضرت موسیٰ ؑکی نبوت پر ایمان لیکن ان کی شریعت کے کچھ حصوں پر تحفظات۔
پولیس کمشنر کو ملنے والی درخواست میں دارالحکومت کی مرکزی جامع مسجد کے سامنے قرآن سوزی کی وحشیانہ واردات کو نظیر بناتے ہوئے استدعا کی گئی کہ درخواست دہندہ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے انجیلِ مقدس اور عبرانی انجیل کو آگ لگانا چاہتا ہے۔ عرضی میں عدلیہ کے اس فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا جو سلوان ممیکا کی درخواست پر سنایا گیا تھا۔ دو ماہ پہلے جاری ہونے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر قسم کے اجتماع اور احتجاج کے حق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ عدالت نے قرآن سوزی کے بارے میں سلوان کے مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہبی یا سیاسی علامت کو نذرِ آتش کرنا اس نظریے اور علامت کے خلاف احتجاج ہے جس پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالتی فیصلے کے بعد سلوان ممیکا نے عین عیدالاضحی کے دن مسجد کے سامنے قرآن کے نسخے کو آگ لگادی تھی۔ عدالتی فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے اس دوران سلوان کو نہ صرف مکمل تحفظ فراہم کیا گیا بلکہ قرآن جلانے کے عمل میں بھی وردی پوش پولیس سپاہیوں نے سلوان کی مدد کی۔
پولیس کمشنر نے جمعہ کو انجیل جلانے کی اجازت دے دی۔ پولیس کے اعلامیے میں تحفظِ امنِ عامہ کے پیشِ نظر درخواست دہندہ کا نام خفیہ رکھا گیا۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا گیا کہ یوم سبت یعنی ہفتہ 15 جولائی کو اسٹاک ہوم کے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے New Testamentاور Old Testament کے نسخے نذرِ آتش کیے جائیں گے۔
اس خبر پر سویڈن کے مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں میں زبردست اشتعال پھیلا۔ اس ملک میں آباد یہودیوں کی تعداد 15ہزار کے قریب ہے، چنانچہ سویڈش یہودیوں کی جانب سے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن اسرائیل میں اس اعلان پر آگ لگ گئی۔ امریکہ اور یورپ میں بھی تشویش کی لہر دوڑی اور مذہبی حساسیت و احترام کے حوالے سے گوری اقوام کا دہرا معیار بھی سامنے آگیا۔ مسلمانوں کے لیے انجیل اور توریت، قرآن کریم ہی کی طرح مقدس و متبرک ہیں، لہٰذا اس خبر پر مسلمانانِ عالم اتنے ہی مغموم بلکہ کسی حد تک مشتعل ہوئے جتنے وہ قرآن کی بے حرمتی پر تھے، تاہم توہینِ قرآن کی مکروہ و غلیظ حرکت پر آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کا عطر چھڑکنے والوں کا تناخ اور انجیلِ مقدس کی متوقع توہین پر ردعمل بالکل مختلف تھا۔
آپ کو یاد ہوگا امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے توہینِ قرآن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”مذہبی کتب کو جلانا توہین اور دل شکنی کا باعث ہے اور قانونی ہونے کی صورت میں بھی یہ کام مناسب نہیں“۔ ساتھ ہی انھوں نے ترکیہ کو تلقین کی کہ سویڈن کی نیٹو کے لیے رکنیت کی جلد از جلد توثیق کردی جائے۔ ایسا ہی مذمتی بیان نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ کا تھا۔ برسلز میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس عمل کو پسند نہیں کرتے تاہم کچھ لوگوں کے لیے یہ آزادیِ اظہارِ رائے کا معاملہ ہے۔ سویڈن کے وزیراعظم اولف کرسٹرسن نے اپنے عراقی ہم منصب سے فون پر باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قرآن جلانے کے عمل کو ”مناسب“ نہیں سمجھتے لیکن بادی النظر میں سلوان قانون شکنی کا مرتکب نہیں ہوا۔ امریکہ، یورپی یونین اور مغرب کے کسی بھی ملک یا قائد نے اس غلیظ عمل کے لیے مذمت (condemn)کا لفظ استعمال نہیں کیا اور ہر جگہ اس قابلِ مذمت عمل کو آزادیِ اظہار کا تحفظ فراہم کیا گیا۔
عبرانی انجیل جلانے کے اعلان پر اسرائیلی قیادت اور امریکی حکام کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے۔ اب قرآن سوزی کا عمل بھی قابلِ مذمت قرار پایا۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوق نے کہا کہ ”ریاست کے صدر کی حیثیت سے میں نے قرآن کو نذرِ آتش کرنے کی مذمت کی جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، اور اب مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ یہودیوں کی ابدی کتاب یہودی بائبل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے“۔ اپنے بیان میں جناب اسحاق ہرزوق نے کہا کہ مقدس کتابوں کی توہین، اظہارِ رائے کی آزادی نہیں، یہ صریح اشتعال انگیزی اور نفرت کا عمل ہے۔ پوری دنیا کو مل کر اس گھناؤنے فعل کی مذمت کرنی چاہیے۔
سامی (semitic) نسل کے خلاف امتیازی سلوک پر نظر رکھنے والی امریکی نمائندہ محترمہ Deborah Lipstadt نے کہاکہ امریکہ کو توریت جلانے کے منصوبے پر گہری تشویش ہے اور واشنگٹن اسے قابلِ مذمت قدم سمجھتا ہے۔ اگرچہ امریکہ جمہوریت، اظہارؐ رائے کی آزادی اور پُرامن احتجاج کے حق اور سب کے لیے مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس طرح کے اقدامات خوف کا ماحول پیدا کریں گے۔ اس سے یہودیوں اور دیگر مذہبی اقلیتی گروہوں کے ارکان کی سویڈن میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
ہفتے کے دن پولیس کے تحفظ میں ایک 32سالہ شامی نژاد نوجوان احمد علوش اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے کتاب اور لائیٹر لیے نمودار ہوا۔ میگافون پر تقریر کرتے ہوئے احمد نے کہا:
”میرے توریت و انجیل جلانے کے اعلان سے مسلمان، مسیحی اور یہودی سب مغموم و مشتعل ہیں۔ دیکھو! میرے ہاتھ میں صرف قرآن کریم ہے۔ میرے اعلان کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ توہینِ قرآن سے اربوں مسلمان دل گرفتہ ہیں۔
لوگو! میرے لیے یہ تصور بھی محال ہے کہ میں ان مقدس کتابوں کو نذرِ آتش کردوں جن کی تصدیق قرآن نے کی ہے۔“
یہ کہتے ہوئے احمد کی آواز بھرّا گئی۔ اس نے ہاتھ میں تھامے قرآن کو ادب سے بوسہ دیا اور سینے سے لگاتے ہوئے لائٹر کو کچرے کے ڈرم میں پھینک دیا۔
رندھے ہوئے لہجے میں احمد نے کہا:
”آج مسیحیوں اور یہودیوں کو جو تکلیف پہنچی ہے ہم اس اذیت سے کئی بار گزرے ہیں۔ مقدس کتابوں کو جلانا ایک گھنائونا فعل ہے جس پر مہذب معاشرے میں پابندی ہونی چاہیے۔ میں صرف یہ دکھانا چاہتا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کی حدود ہوتی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگرقرانی تعلیمات پسند نہیں تو آپ کو اس پر تنقید کا حق ہے لیکن مقدس اوراق کو جلانا آزادیِ اظہار نہیں، فکری دہشت گردی ہے۔ تمام حقوق و فرائض کی طرح حقِ ازادیِ اظہار و گفتار کی بھی کچھ قیود ہیں۔ کیا سویڈن کے بادشاہ کو برسرعام گالی دی جاسکتی ہے؟“
احمد علوش نے کہا:
”ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا، ہم ایک ہی معاشرے میں رہتے ہیں۔ اگر میں توریت و بائبل، اور دوسرے قرآن کو جلائیں گے تو یہاں جنگ ہوجائے گی۔ میں جو دکھانا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔“
نوجوان احمد علوش کوئی سیاسی مدبر و مفکر نہیں لیکن اُس کی یہ تین منٹ کی گفتگو مذہبی رواداری، باہمی احترام اور اختلافی معاملات میں اعتدال پر رہنے کا عادلانہ منشور ہے۔ کیا مہذب دنیا سونے میں تولے جانے کے قابل ان ارشادات سے کچھ سبق سیکھے گی؟
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

a3w
a3w