سیاستمضامین

حکومتِ تلنگانہ زائد از تیرہ لاکھ نوٹری معاہدہ پر خریدی ہوئی جائیدادوں‘ اراضی کے پلاٹس پر قبضہ جات کو باقاعدہ بناناچاہتی ہے۔ بہت جلد حکم نامہ جاری کیا جائے گا’’ قابضین‘‘ کو باقاعدگی کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی

٭ حکومت کس طرح اس اراضی کی قیمت وصول کرسکتی ہے جس کی وہ مالک نہیں؟ ٭ اس ’’حکمتِ عملی‘‘ کو لین ٹائٹلنگ ایکٹ 2022ء کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ٭ آپ خود اقرار کریں گے کہ آپ کے پاسTitle نہیں ہے۔ ٭ لینڈ ٹائٹلنگ ایکٹ 2022ء آپ پر لاگو ہوگا اور اس کی بنیاد آپ کا اقرار نامہ ہوگا۔

محمد ضیاء الحق ۔ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ آف حیدرآباد

متذکرہ شاطرانہ حکمتِ عملی کے ذریعہ حکومتِ تلنگانہ ایک بھاری رقم حاصل کرنا چاہتی ہے۔اگر ہر جائیداد‘ پلاٹ کی اوسط قیمت500 روپیہ فی مربع گز مقرر ہو اور علی الحساب 200 مربع گز اراضی کے پلاٹ کو باقاعدہ بنانے کی قواعد شروع ہو تو 13,00000 تیرہ لاکھ پلاٹس کی قیمت جو وصول کی جائے گی اس کا حساب اس طرح ہوگا۔
1300000X500X200=130000000000 روپے
یہ رقم اربوں میں نہیں بلکہ کھربوں روپیہ میں ہوگی۔ حکومتِ تلنگانہ اتنی بھاری رقم کے عوض آپ کو گورنمنٹ لینڈ میں سے ایک انچ زمین بھی نہ دے گی بلکہ آپ ہی کی اپنی زرخرید اراضی کے باقاعدگی کے عمل میں آپ کو اتنے بھاری مالی نقصان کو برداشت کرنے پر مجبور کردے گی۔
قبل ازیں تلنگانہ گورنمنٹ نے گورنمنٹ آرڈر 118 جاری کیا تھا جس کے تحت گورنمنٹ اراضیات پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کا حکم جاری کیا تھا اور وہ بھی صرف چند کالونیوں میں۔ اس گورنمنٹ آرڈر کے تحت قیمت جو مقرر کی گئی تھی وہ 250 روپیہ فی مربع گز تھی۔ گورنمنٹ آرڈر 118 کسی حد تک معقول نظر آتا ہے کیوں کہ حکومت گورنمنٹ لینڈ (سرکاری اراضی) پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنانا چاہتی تھی اور اس ضمن میں درخواستیں بھی وصول ہوئیں۔ اس بات میں معقولیت ہے کیوں کہ حکومت اپنی اراضی کی قیمت حاصل کررہی ہے لیکن اس نئی اسکیم میں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
نوٹری معاہدہ کی بنیاد پر اراضیات پر قابض افراد کا قانونی موقف مستحکم ہے
نوٹری معاہدہ بیع کی بنیاد پر قابضینِ اراضی ‘ جائیداد‘ مکانات و دوکانات کا قانونی موقف نہایت مستحکم ہے۔ اگر معاہدہ کی روشنی میں قابضین نے تمام رقم ادا کردی ہے اور اس کی رسائد ان کے پاس موجود ہوں اور جائیدادوں پر ان کا قبضہ ہو تو کوئی بھی حکومت ‘ اتھاریٹی ‘ فرد ان کو مقبوضہ اراضی ‘ اراضیات اور ان پر تعمیر شدہ مکانات سے بے دخل نہیں کرسکتا۔ ایسے افراد کو یہ مضبوط اور مستحکم قانونی موقف ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کے دفعہ (53-A) نے عطا کیا ہے۔ گویا ادائیگی رقم اور حصولِ قبضہ کے بعد ان کا قبضہ مسلمہ ہے اور انہیں قانون کی حمایت حاصل ہے۔ نوٹری دستاویزات کی بنیاد پر جائیدادوں سے بے دخل کروانے کا حکومت کا کوئی اختیار نہیں اس بات کو چھوڑ کر کہ ایسی اراضیات گورنمنٹ اراضیات کے زمرہ میں آتی ہوں لیکن 99% صورتوں میں نوٹری معاہدہ پر حاصل کی ہوئی اراضیات پٹہ اراضی کے زمرے میں تھیں جس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
حالیہ دنوں میں یہ خبر کئی اخبارات کی زینت بنی کہ حکومتِ تلنگانہ نے تمام ممبران اسمبلی کی نمائندگیوں پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ ضلع کلکٹرس کی جانب سے فراہم کردہ تیرہ لاکھ نوٹری پلاٹس پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنادیا جائے گا اور حکومت اس عمل میں Revenue حاصل کرے گی۔
یہ بھی کہا گیا کہ جو قیمت وصول کی جائے گی وہ سرکاری قیمت کے مقابلہ میں کم ہوگی۔ گویا یوسف گوڑہ‘ بنجارہ ہلز‘ جوبلی ہلز علاقوں میں جو بھی سرکاری قیمت ہو ‘ اس سے کم قیمت حاصل کی جائے گی ۔ اگر بنجارہ ہلز میں فی مربع گز 60ہزار روپے سرکاری قیمت ہے تو سرکاری کمالِ مہربانی سے وہاں کے نوٹری معاہدہ پر خریدے ہوئے پلاٹس کو صرف دس ہزار روپیہ فی مربع گز میں باقاعدہ بنادے گی اور اس طرح 200 مربع گز اراضی پر نوٹری دستاویز کی بنیاد پر قابض فرد کو صرف بیس لاکھ روپیہ ادا کرنا پڑے گا۔ کیا یہ عمل عوامی لوٹ کھسوٹ کا کوئی نیا طریقہ تو نہیں؟
ہم بغیر کسی تحفظات کے ببانگِ دہل کہہ سکتے ہیں کہ متذکرہ مجوزہ عمل (Good Governance) کے خلاف ہے۔ ایسی پالیسی یا حکمتِ عملی جو عوام میں ایک ہیجانی صورتحال پیدا کردے عموماً اسے پسند نہیں کیا جاتا۔ لیکن حکومت کرے بھی تو کیا کرے؟
ریاستی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات قریب ہیں۔ خزانے میں پیسہ نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں انتخابی مصارف کرنے ہیں۔ جی ایس ٹی کی آمدنی مرکزی حکومت نے تقریباً ہڑپ کرلی ۔ اب پیسہ آئے تو کہاں سے آئے۔ لہٰذا نوٹری معاہدات پر مبنی اراضیات بہترین چراگاہیں ہیں جن میں سے جتنا بھی چاہو دولت حاصل کرو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نوٹری دستاویز کی اساس پر اراضیات کے مالکین اس اسکیم سے راضی ہوں گے یا ناراض؟ اگر راضی ہوں تو اتنی بھاری رقومات کہاں سے فراہم کی جائیں گی کہ گورنمنٹ کے خزانہ میں داخل کی جائیں۔ اور وہ حضرات جو ناراض ہیں اور اس اسکیم پر عمل درآمد نہیں چاہتے انہیں کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ نہ انہیں کوئی بشمول حکومت ان کی اراضیات ‘ مکانات سے بے دخل کرسکتا ہے اور نہ کوئی نقصان پہنچاسکتا ہے۔ ایک چھوٹے سے مکان کا مالک کہاں سے لاکھوں روپیوں کی رقم فراہم کرسکے گا یہ سوچنے کی بات ہے۔
ہمارے خیال میں یہ اسکیم جو لاگو ہونے جارہی ہے اس میں لینڈ مافیا کا ہاتھ ہے جنہوں نے سادہ بیع نامہ یا کسی غیر رجسٹر شدہ دستاویز کی اساس پر بڑی بڑی اراضیات پر قبضہ حاصل کرلیا ہے لیکن وہ ایسی اراضیات پر نہ تو کوئی تعمیر کرسکتے ہیں اور نہ انہیں حکومت کی جانب سے سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں۔ بنجارہ ہلز ‘ جوبلی ہلز یا شہر کے اطراف یا اضلاع ہیڈ کوارٹرس کے قریب اراضیات پر کسی دستاویز کی اساس پر قابض فرد۔ افراد۔ مافیا کے لئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ اسکیم سے بہت فائدہ حاصل ہوگا اور یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ صرف لینڈ مافیا کے فائدے کے لئے ہی کیا جارہا ہے۔
پرائیوٹ اراضیات پر قابض افراد آنِ واحد میں ارب پتی بن جائیں گے اور اس اسکیم سے وہی فائدہ اٹھائیں گے۔ دوسرے معنوں میں اگر دیکھا جائے تو سینکڑوں ایکر وقف اراضی پر قابض افراد چند لاکھ روپیہ ادا کرکے قانونی مالک قراردیئے جائیں گے اور بیمار وقف بورڈ اور اس کے مفلوج و اپاہج عہدیدار بس منہ دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔
نوٹری معاہدہ کی اساس پر حاصل کی ہوئی جائیدادوں کے مالکین نے اگر باقاعدہ بنانے کی درخواست پیش کی تو انہیں دوسرے خطرات لاحق ہوں گے کیو ںکہ ایک قاتل قانون یعنی لینڈ ٹائٹلنگ ایکٹ کی تلوار ان کے سروں پر لٹکی ہوئی ہوگی۔ اگر مالکینِ اراضی نے درخواستیں پیش کیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس مقبوضہ اراضی کا Title نہیں ہے۔ گویا آپ خود تسلیم کررہے ہیں کہ میری مقبوضہ اراضی پر میرا کوئی قانونی حق نہیں ہے اور میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ مطلوبہ رقم حاصل کرکے میری اراضی کو باقاعدہ بنادیں۔ لینڈ ٹائٹلنگ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی اتھاریٹی حکومت کی جانب سے جاری باقاعدگی کے احکامات کو تسلیم نہیں کرے گی اور از خود انکوائری کرے گی۔ پہلی اتھاریٹی کے روبرو ہی یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ آپ کے پاس اپنی جائیداد کا Title نہیں ہے۔ لہٰذا ایسی اراضی کو اتھاریٹی آپ کی اراضی تسلیم نہیں کرے گی اور آگے جو کارروائی ازروئے قانون کی جائے گی جس میں آپ کو اپنی جائیدادوں سے محروم تک ہونا پڑسکتا ہے۔ اگر یہ نیا قانون لاگو نہ ہوتا تو کوئی اور بات ہوتی۔
نوٹری دستاویز کے حامل مالکینِ جائیداد کی شکایت یہ ہے کہ ان کی اراضیات کی رجسٹری نہیں ہورہی ہے۔ لیکن قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کل حیدرآباد میں اراضیات ‘ مکانات اور خاص طور پر فلیٹس کا نوٹری دستاویز پر فروخت ہونا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ خریدار سابقہ لنک ڈاکومنٹس اور معاہدہ بیع اور قبضہ کی اساس پر فلیٹس کا مالک بن رہا ہے اور بغیر رجسٹری کے بھی یہ کام ہورہا ہے جس طرح کہ ممبئی اور دلی میں ہوتا ہے۔ یہاں حکومت کی شاطرانہ چال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت بھاری رقومات حاصل کرکے نوٹری دستاویز پر مبنی جائیدادوں پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنارہی ہے اور اس کے بعد فوراً رجسٹری کا عمل شروع ہوگا۔ لہٰذا اِدھر سے آمدنی اور اُدھر سے بھی آمدنی کے Flood Gates کھل جائیں گے۔
مالکینِ جائیداد آج ایک دوراہے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ کریں تو کیا کریں اور اگر نہ کریں تو کیا نہ کریں۔ اگر وہ اس جال میں پھنس کر آگے بڑھتے ہیں تو آگے دو شکاری پھندہ لئے کھڑے ہیں۔ انہیں حکوت کے ارادوں سے واقف ہونے کی ضرور ت ہے۔
ہماری ناچیز رائے میں اگر اس عمل سے گریز کیا ج ائے تو ایک بہتر اقدام ہوسکتا ہے جس میں کسی بھی نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں۔ دوسری جانب بھاری رقومات کی بربادی اور اس کے بعد جائیدادوں کی ضبطی کا خطرہ برقرار رہے گا۔
فیصلہ آپ پر ہے جو چاہیں کریں۔
ہم بحیثیت ایک ایڈوکیٹ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ تسلیم کرنا یا نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔

a3w
a3w