دہلی

مختار انصاری کو جیل میں قتل کردینے کا اندیشہ

جرائم پیشہ سرغنہ سے سیاستداں بنے مختار انصاری کے لڑکے عمر انصاری نے سپریم کورٹ میں داخل درخواست میں اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ 2024 کے الیکشن سے قبل باندہ جیل میں ان کے والد کو قتل کیا جاسکتا ہے۔

نئی دہلی: جرائم پیشہ سرغنہ سے سیاستداں بنے مختار انصاری کے لڑکے عمر انصاری نے سپریم کورٹ میں داخل درخواست میں اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ 2024 کے الیکشن سے قبل باندہ جیل میں ان کے والد کو قتل کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
عمر انصاری کو گرفتاری سے تحفظ، سپریم کورٹ کا فیصلہ
تین طلاق قانون کے جواز کو چالینج، سپریم کورٹ میں تازہ درخواست
گیان واپی سروے رپورٹ فریقین کو دی جائے گی
کویتا، پیش نہیں ہورہی ہیں سپریم کورٹ میں ای ڈی کا انکشاف
سپریم کورٹ میں حکومت اے پی کے خلاف عرضی خارج

درخواست میں دعویٰ کیا گیاکہ ریاستی عہدیداروں‘ حریف سیاستدانوں اور محکمہ پولیس کے لوگوں نے سیاسی شخصیت کے قتل کا منصوبہ بنایا ہے جو اترپردیش کے حلقہ مؤ سے متواتر 5 میعاد کے لئے رکن اسمبلی رہی۔

دستور کے آرٹیکل 32 کے تحت داخل رٹ درخواست میں گزارش کی گئی کہ مختار انصاری کو یو پی کے باہر کسی بھی ایسی ریاست کی جیل میں منتقل کردیا جائے جہاں بی جے پی کو چھوڑکر کسی اور جماعت کی حکومت ہو۔

درخواست میں کہا گیا کہ مختار انصاری کا تعلق ایسی سیاسی جماعت سے ہے جو ریاست میں برسراقتدار جماعت کی سیاسی اور نظریاتی لحاظ سے مخالف ہے۔ مختار انصاری‘ ان کے بھائی اور ان کی فیملی کو ریاست میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ مختار انصاری کو قتل کرنے کے لئے جن لوگوں کی خدمات حاصل کی گئیں انہیں پولیس گرفتار کرکے یا کسی چھوٹے جرم میں ریمانڈ پر لے کر باندہ جیل منتقل کرے گی۔ اس کے بعد کرایہ کے ان قاتلوں کو جیل کے اندر ہتھیار دیئے جائیں گے۔

مروجہ طریقہ کار کے مطابق سارے واقعہ کو قیدیوں کی آپسی لڑائی کا رنگ دیا جائے گا۔ اس پر گینگ وار کا گمراہ کن پردہ ڈال دیا جائے گا۔ ٹی وی کیمروں کے سامنے عتیق احمد اور ان کے بھائی کے قتل کے حوالہ سے درخواست میں کہا گیا کہ یوپی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا تکلیف دہ رجحان پایا جاتا ہے۔

ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستی پولیس کی ملی بھگت ہے۔ مختار انصاری کو اترپردیش سے کسی اور ریاست کی جیل میں جہاں بی جے پی کی حکومت نہ ہو‘ منتقل کرنے کا مضبوط کیس بنتا ہے۔