مہاراشٹرا

ٹیپو، اورنگ زیب اور بابر نام رکھنے پر بھی امتناع عائد کردیا جائے: اسد اویسی

اے آئی ایم آئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے کولہا پور تشدد، لو جہاد اور دیگر مسائل پر بی جے پی کو نشانہ تنقید بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

حیدرآباد: اے آئی ایم آئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے کولہا پور تشدد، لو جہاد اور دیگر مسائل پر بی جے پی کو نشانہ تنقید بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مجلس کو ختم کرنے کا الزام: اکبر الدین اویسی
مدرسوں میں بھگوان رام کی کہانی پڑھائی جائے گی: :صدرنشین وقف بورڈ
کانگریس اور آر ایس ایس کومسلم قیادت برداشت نہیں: اسد اویسی
ندی کے بیچ میں درخت پر پھنسے شخص کو بچا لیا گیا (ویڈیو)
ٹیپو مخالف ڈرامہ کی پیشکشی پر مجلس تعمیر ملت کا احتجاج

انہوں نے یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کولہا پور میں تشدد کا حوالہ دیا اور کہا کہ کسی نے ٹیپو سلطان کی فوٹو اپنے ساتھ رکھی جس کے بعد آر ایس ایس کے لوگ شہر کی سڑکوں پر اتر آئے۔

انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور مرکز کو چاہیے کہ اس نے جس طرح انسدادِ غیرقانونی سرگرمیاں ایکٹ کے تحت 44 تنظیموں پر امتناع عائد کیا ہے اسی طرح ٹیپو، اورنگ زیب اور بابر جیسے نام رکھنے پر بھی امتناع عائد کردے۔ انھوں نے مہاراشٹرا کے ایک وزیر کے حوالے سے کہا کہ 21 افراد کو پکڑ لیا گیا ہے۔

اگر تصویر ساتھ رکھنا جرم ہے تو پھر یہ بتائیں کہ تعزیراتِ ہند کی کونسی دفعہ اس پر لاگو ہوتی ہے۔ انھوں نے بی جے پی کو مزید نشانہئ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ ممنوعہ ناموں کی فہرست میں گوڈسے کا نام شامل نہیں کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ اب معاملہ ناموں پر بھی آگیا ہے۔

لو جہاد کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ اگر مہاراشٹرا میں لو جہاد ہورہا ہے تو تفصیلات بتائیں کہ احمد نگر میں اندازاً کتنے واقعات پیش آئے ہیں۔ یہ بتائیں کہ کولہا پور، سانگلی، مغربی مہاراشٹرا، مرہٹوارہ میں کتنے واقعات پیش آئے ہیں، لیکن کچھ نہیں بتایا جاتا۔

آخر لو جہاد کہاں ہورہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مہاراشٹرا میں 50 میٹنگس منعقد کی ہیں صرف نفرت پھیلانے کے لیے۔تاکہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کیا جاسکے۔

پارلیمانی انتخابات سے قبل مہاراشٹرا میں فساد بھڑکانے کی سازش رچنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے اورنگ آباد (سمبھا جی نگر) سے اپنی پارٹی کے ایم پی امتیاز جلیل کی ستائش کی، جنہوں نے تقریباً 3 گھنٹوں تک ایک مندر کے سامنے ٹھہر کر اس کی حفاظت کی تھی جبکہ شہر میں گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔