سیاستمضامین

پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع اور انہدامی کارروائیاں ۔ معاوضہ کی رقم انتہائی قلیل دی جارہی ہےمالکینِ جائیداد عہدیداروں کی ہراسانیوں سے ناراض۔ قیمتی تعمیری رقبہ کا معاوضہ نہیں دیا جارہا ہے

٭ مالکینِ جائیداد اپنی جائیدادوں کی حقیقی قیمت سے واقف نہیں۔ ٭ ہائیکورٹ سے رجوع ہونے سے سیاسی گماشتے روک رہے ہیں۔ ٭ رضامندی دینے کیلئے غیر واجبی طور پر مجبور کیا جارہاہے۔ ٭ اگر مالکینِ جائیداد ہائیکورٹ سے رجوع ہوں تو معقول معاوضہ اور کافی وقت مل سکتا ہے۔

محمد ضیاء الحق ۔ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ آف حیدرآباد۔

وہ کونسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے مالکینِ جائیداد اپنی جائیدادیں میونسپل کارپوریشن کے حوالے کررہے ہیں اور اپنی قیمتی جائیدادوں کے عوض ایک معمولی سی رقم حاصل کررہے ہیں۔ کئی ایسی صورتیں سامنے آرہی ہیں جن میں سارا مکان متاثر ہورہا ہے اور اس کے عوض ایک معمولی رقم دی جارہی ہے جس سے کوئی مکان خریدا نہیں جاسکتا۔ جہاں زمین کی قیمت زائد از ایک لاکھ روپیہ فی مربع گز ہے ‘ وہاں صرف بیس ہزار روپیہ فی مربع گز کے حساب سے معاوضہ دیا جارہا ہے اور مکان کے اسٹرکچر کی قیمت نہیں دی جارہی ہے۔ ڈر اور خوف کے زیرِ اثر لوگ بے گھر اور بے در ہورہے ہیں۔ کاروبار چوپٹ ہورہا ہے۔ قیمتی دوکانوں کا معاوضہ محض دو تین لاکھ روپیہ دیا جارہا ہے جو کسی دوکان کو کرایہ پر لینے کی (Good Will) ’’ پگڑی‘‘ کے برابر بھی نہیں۔
میونسپل کارپوریشن اگر چاہے تو بھی ایسی جائیدادیں مالکین کی مرضی کے خلاف حاصل نہیں کرسکتی۔ اگر مالکینِ جائیداد انکار کردیں اور ہائیکورٹ سے انہدامی کارروائی کے خلاف حکم التواء حاصل کرلیں تو میونسپل کارپوریشن کو صرف قانونِ حصولِ اراضی 2013ء کو روبعمل لانا ہوگا اور دو تین سالہ طویل کارروائی کے بعد بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔
اس قانونی موقف کا رواں کالم کے ذریعہ کئی بار اظہار کیا گیا لیکن بے سود۔ کوئی اثر ہوتا ہوا دکھائی نہیںدیتا۔ قانونی موقف مالکینِ جائیداد کے حق میں ہے کہ اگر وہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے دیئے ہوئے معاوضہ سے ناخوش ہوں تو وہ انکار کرسکتے ہیں اور ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ انہدامی کارروائی کی جاسکتی ہے اور اس طرح مالکینِ جائیداد اپنے غیر منقولہ سرمایہ کاری کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ اگر وہ قانون کو سمجھیں اور اس کا فائدہ اٹھائیں تو ان کی پریشانیاں بڑی حد تک ختم ہوسکتی ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہوسکتا ہے کہ مجوزہ سڑک کے توسیعی عمل کو غیر معینہ مدت کے لئے ٹال دیا جائے گا اور جب دوبارہ قانونِ حصولِ اراضی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اس وقت تک زمین کی قیمت اور بھی زیادہ ہوجائے گی۔
شہر سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں اس ضمن میں ایک بہت بڑی خبر شائع ہوئی ہے جس میں سڑکوں کی توسیع میں متاثر ہونے والی جائیدادوں کے مالکین نے شکوہ کیا ہے کہ ان کو معاوضہ بہت ہی قلیل دیا جارہا ہے اور ان کی ہراسانیوں کا سلسلہ بڑھ رہا ہے ۔ خبریں یہ بھی ہے کہ کچھ مالکینِ جائیداد نے عدالت سے رجوع ہوکر سڑک کے توسیعی پراجکٹ کو رکوادیا ہے۔ قارئین اور خصوصاً پرانے شہر کے متاثرہ مالکینِ جائیداد کو عدالت سے رجوع ہونے اور حفاظتی اقدام سے کس نے باز رکھا؟ اگر وہ بھی دیگر حضرات کی طرح عدالت سے رجوع ہوتے اور انہدامی کارروائیوں کے خلاف حکمِ التواء حاصل کرلیتے تو دوسرے مالکینِ جائیداد کی طرح سکون میں ہوتے۔
آج سے زائد از بیس سال قبل نئے پل سے متوازی دوسرے پل کی تعمیر کے بعد دہلی دروازہ تا مدینہ ہوٹل تک سڑک کی توسیع میں زائد از تین سو جائیدادیں متاثر ہورہی تھیں اور مالکینِ جائیداد کو چوبیس گھنٹوں کی نوٹس دی گئی تھی کہ وہ اپنی دوکانوں سے سامان ہٹالیں۔ مالکین کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جارہا تھا۔ اس وقت ایک مسلم ڈپٹی کمشنر نے سرکار سے وفاداری کی قسم کھا کر تہیہ کیا تھا کہ وہ ان ساری جائیدادوں کو بلامعاوضہ حاصل کرلیں گے۔ لیکن کیا ہوا؟ تمام کے تمام مالکینِ جائیداد راقم الحروف کے ذریعہ ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے اور حکمِ التواء حاصل کرلیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ الحمد للہ آج تک یہ مارکٹ قائم ہے ۔ ہائیکورٹ نے حکم صادر کیا تھا کہ قانونِ حصولِ اراضی کو روبعمل لا کر کارروائی کی جائے اور جب تک حکمِ التواء جاری رہے گا۔ وہ حکم التواء آج بھی قائم ہے ۔ نئے پل کی چپّل مارکٹ آج بھی جوں کا توں موقف میں ہے۔ یہ حقیقت اس مارکٹ کے دوکانداروں سے معلوم کی جاسکتی ہے۔
کچھ سال قبل شیخ پیٹ میں ایک بہت بڑی ہوٹل محفل کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ کروڑوں روپیہ مالیتی تین منزلہ ہوٹل محض چند لاکھ روپیوں کے عوض حاصل کی جارہی تھی ۔ اس ہوٹل کا کرایہ صرف چار لاکھ روپیہ ماہانہ ہے۔ ہوٹل کے مالک سید علی اکبر نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور راقم الحروف کے ذریعہ ہائیکورٹ سے حکم التواء حاصل کیا۔ ہوٹل آج بھی اسی حالت میں کھڑی ہے۔
گولکنڈہ بنجارہ دروازہ تا موتی دروازہ سڑک کی توسیع۔ نوٹس کا اجراء
صرف گولف کلب کے ممبرس کی ٹریفک سہولت کیلئے غریبوں پر ظلم کیا جارہا ہے
گولکنڈہ بنجارہ دروازہ تا موتی دروازہ ایک پتلی سی سڑک کے دونوں جانب سینکڑوں مکانات واقع ہیں جن میں اکثریتی طبقہ کے افراد رہتے ہیں۔ کم از کم تین سو مکانوں کے مالکینِ کو نوٹس جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی جائیداد میونسپل کارپوریشن کے حوالے کردیں۔ اس چھوٹی اور تنگ سڑک پر صرف گولف کلب کے ممبرس کی کاریں چلتی ہیں۔ سڑک تنگ ہونے کی وجہ سے صاحب بہادروں کو ڈرائیونگ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان ممبرس کا تعلق میونسپل عہدیداروں کے آقاؤں سے ہے یعنی ان میں بڑے بڑے افسر شاہ‘ ممبرانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ سوسائٹی کے افراد ہیں۔ سارا دن اس سڑک پر ایک کار بھی نہیں چلتی۔ ان مالکینِ جائیداد کی نیندیں حرام ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ جب سے نوٹس آئی ہے نہ انہوں نے کھانا ہی کھایا اور نہ سوسکیں۔ ایک عام بے چینی کی صورت ہے۔ سیاسی کارندے ان غریب و بے بس حضرات کو ہراساں کررہے ہیں کہ جائیدادیں دینے کے سوا کوئی دوسری راہ نہیں۔ گھروں پر تیس تا چالیس فیٹ گہرائی کے نشانات لگائے گئے ہیں۔
استفسار پر شخصی ملاقات پر ان حضرات و خواتین کو رائے دی گئی کہ وہ کسی بھی سیاسی یا عہدیداروں کے دباؤ میں نہ آئیں اور نہ رضامندی فارم پر دستخط کریں۔ ان کو راحت بہم پہنچائی جائے گی اگر وہ ہمت وحوصلہ مندی کا ثبوت دیں۔ انہیں یقینی طور پر حکمِ التواء حاصل ہوگا کیوں کہ نوٹس غیر قانونی ہے۔ اگر گولکنڈہ کے مالکینِ جائیداد کے پاس جائیدادوں کی ملکیت کی اساس نوٹری دستاویزات ہوں تو بھی کسی فکر و تردد کی ضرورت نہیں۔ نوٹری دستاویز اور قبضہ ہی ملکیت کی اساس تصور کیا جائے گا۔
عدالت رجسٹر شدہ دستاویز پیش کرنے پر اصرار نہیں کرسکتی۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آپ اپنی جائیدادیں میونسپل کارپوریشن کے حوالے کردیں۔ یہ بات تسلیم کی جائے گی کہ میونسپل کارپوریشن نے خود آپ کو متاثرہ جائیداد کا مالک سمجھا ہے لہٰذا رجسٹر شدہ دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
لہٰذا گولکنڈہ کے تمام متاثرین کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ گورنمنٹ کے عہدیداروں یا سیاسی گماشتوں کی باتوں سے ہراسان نہ ہوں اور ان کی باتوں میں نہ آئیں ورنہ وہ تمام بے گھر ہوجائیں گے۔ ایک مکتبۂ خیال یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن اب پیسے دے رہی ہے ‘ بعد میں وہ بھی نہیں ملیں گے۔ یہ جھوٹی اور بے بنیاد باتیں ‘ چھوٹی سی رقم دے کر میونسپل کارپوریشن آپ پر کوئی احسان نہیں کررہی ہے۔ آپ کا حقِ مالکانہ اس غیر قانونی طریقہ سے چھینا نہیں جاسکتا۔ آپ رضامندی دینے سے انکار کردیں۔ بس یہی بات کافی ہوگی۔
بیٹا بیٹی اپنے باپ مرحوم کی جائیدادفروخت کرنے کے مجاز ہیں
کسی Succession Certificate کی ضرورت نہیں
راجستھانی برادری کے ایڈوکیٹس آپ کو گمراہ کررہے ہیں
راجستھانی برادری کے ایڈوکیٹس اپنے مسلم موکلین کو گمراہ کررہے ہیں۔ ایسی عام شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ واقعات یہ ہیں کہ ایک بہت بڑی جائیداد جس کی سرکاری قیمت زائد از سات کروڑ روپیہ ہے‘ پہلے ایک مسلم صاحب کی ملکیت تھی۔ ان کا ا نتقال ہوگیا اور ورثہ میں صرف ایک بیٹا اور بیٹی ہیں۔ ان کے والد راجستھانی برادری سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ کے موکل بلکہ مرید تھے اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد جب بھی کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہو تو ایڈوکیٹ صاحب کے مشورہ کے مطابق ہی عمل کرنا اور کسی دوسرے قانون دان سے رائے نہ لینا۔ یہ دونوں بھائی بہن امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ حسبِ وصیت انہوں نے ایڈوکیٹ سے مشورہ کیا۔ ایڈوکیٹ صاحب نے رائے دی کہ تمہاری جائیداد کی سرکاری قیمت سات کروڑ روپے ہے جبکہ حقیقی قیمت زائد از بیس کروڑ ہے۔
بیٹا وکیل صاحب سے ملنے کے بعد شش و پنج میں مبتلا ہوگیا کیوں کہ ایڈوکیٹ صاحب نے ڈرادیا کہ بہت بڑی جائیداد ہے اور عدالت سے رجوع ہوکر وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ مقدمہ دائر کرنے کے بعد عدالت سے نوٹس شائع کروانے کا حکم دے گی اور اگر کوئی دوسرا وارث نہ آئے تو سرٹیفکیٹ جاری ہوجائے گا۔ ایسی رائے دیدی ۔ اپنی بھاری فیس کے علاوہ ساڑھے تین فیصد کورٹ فیس ادا کرنے کو کہا جو زائد از بیس لاکھ روپیہ ہوتی ہے۔
ایسی صورت میں ایک صاحب نے انہیں ہم سے رجوع کیا۔ ہماری رائے میں جو ان کے ایڈوکیٹ نے کہا وہ بالکل حقیقت اور قانونی موقف کے برعکس تھا۔ باپ کے انتقال کے بعد تمام ورثاء کو حق حاصل ہوگا کہ مل کر متوفی کی جائیداد کو فروخت کردیں۔
ایسی صورت میں عدالت سے رجوع ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلا وجہ معقول ’’ مریدی‘‘ کی وجہ سے لاکھوں روپے اور قیمتی وقت برباد ہورہا تھا۔ آپ یقینی طور پر کسی ایڈوکیٹ کے موکل بنیئے ۔ یہ کیا مشکل ہے کہ صرف باپ کی غیر واجبی وصیت کی وجہ سے لاکھوں کا نقصان اٹھائیں۔
ایسی کئی شکایتیں آتی ہیں کہ آندھرا علاقہ اور راجستھانی برادری کے ایڈوکیٹس اپنے مسلم موکلین کا استحصال کررہے ہیں اور برباد ہورہے ہیں۔
یہ ایڈوکیٹس اکثر فریقِ مخالف سے Compromise کرنے کی رائے دیتے ہیں چاہے کیس کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ لہٰذا اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی گلے میں پھندہ مت ڈالیئے اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے۔
اگر کوئی ایڈوکیٹ سے ایسے معاملات میں وراثتی سرٹیفکیٹ عدالت سے حاصل کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو وہ مشورہ درست نہیں۔
یہ ایک اصول ہے کہ صاحبِ جائیداد کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء ہی اس کی جائیداد کے مالک ہوتے ہیں اور وہ متروکہ جائیداد کو فروخت کرسکتے ہیں۔
لیکن دیگر امور میں وراثتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ مثلاً بینک کے کھاتہ میں مرحوم کی چھوڑی ہوئی رقومات۔ شیئرس۔ ڈبینچرس۔ لاکر کی رقومات زیورات وغیرہ۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

a3w
a3w