یوروپ

چارلس سوم برطانیہ کے نئے بادشاہ

والدہ کی وفات کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران سرکاری طور پر چارلس کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہو گی۔

لندن: جیسے ہی ملکہ برطانیہ نے اپنی آخری سانسیں لیں، برطانیہ کی حکمرانی فوری طور پر بغیر کسی تقریب کے ان کے جانشین اور سابق پرنس آف ویلز چارلس کو منتقل ہو گئی۔ تاہم انھیں بادشاہ کا تاج پہننے سے قبل کئی روایتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔

نئے برطانوی بادشاہ کے دادا جارج پنجم کے نام کا پہلا حصہ البرٹ تھا لیکن انھوں نے اپنے نام کے درمیانی حصے کا انتخاب کیا تھا۔ چارلس کے لیے بھی پہلا کام اپنے لیے ایک نام کا انتخاب ہے اور انھوں نے اپنے لیے شاہ چارلس سوئم کا نام منتخب کیا ہے۔

چارلس اپنے ٹائٹل میں تبدیلی کا سامنا کرنے والی واحد شخصیت نہیں۔ ان کے جانشین شہزادہ ولیم خود بخود اب پرنس آف ویلز تو نہیں بن جائیں گے تاہم انھیں اپنے والد کا دوسرا خطاب ڈیوک آف کارنویل ضرور مل گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کیتھرین اب ڈچز آف کارنویل کہلائیں گی۔چارلس کی اہلیہ کا نیا ٹائٹل ’کوئین کونسورٹ‘ ہو گا۔ کونسورٹ وہ اصطلاح ہے جو بادشاہ کی شریکِ حیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

والدہ کی وفات کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران سرکاری طور پر چارلس کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہو گی۔اس کمیٹی میں موجودہ اور سابق سینیئر ارکانِ پارلیمان پر مشتمل پریوی کونسل کے ارکان، سینیئر سرکاری عہدیدار، دولتِ مشترکہ کے ہائی کمشنرز اور لندن کے لارڈ میئر شامل ہیں۔

روایتی طور پر بادشاہ اس تقریب میں شامل نہیں ہوتا۔اس اجلاس میں ملکہ الزبتھ کی موت کا اعلان پریوی کونسل کے لارڈ پریزیڈنٹ کریں گے۔ بعدازاں اس اعلان پر وزیراعظم، آرچ بشپ آف کنٹربری اور لارڈ چانسلر سمیت اہم شخصیات دستخط کریں گی۔ یہ خصوصی کمیٹی عموماً ایک دن بعد پھر ملتی ہے اور اس مرتبہ بادشاہ اجلاس میں پریوی کونسل کے ارکان کے ہمراہ شریک ہوتا ہے۔

برطانوی بادشاہ یا ملکہ اپنے دور کے آغاز پر ویسے حلف نہیں اٹھاتا جیسے عموماً دیگر سربراہانِ ممالک مثلاً امریکی صدر اٹھاتے ہیں بلکہ نئے بادشاہ کی جانب سے ایک اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ چرچ آف سکاٹ لینڈ کا تحفظ کرے گا۔ اس اعلان کی روایت 18ویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔

اس کے بعد نقاروں کی گونج میں چارلس کو برطانیہ کا نیا بادشاہ قرار دیا جائے گا۔ یہ اعلان سینٹ جیمز پیلس کی فریری کورٹ پر واقع بالکونی سے کیا جائے گا اور یہ اعلان گارٹر کنگ آف آرمز نامی عہدیدار کرے گا۔

اسکاٹ لینڈ سے لندن واپسی کے بعد ملکہ کی میت کو آخری رسومات سے قبل ویسٹ منسٹر ہال میں تقریباً چار روز کے لیے آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور عوام کو ان کا دیدار کرنے کی اجازت ہو گی۔یہ عظیم الشان ہال پیلس آف ویسٹ منسٹر کا قدیم ترین حصہ ہے اور حکومتِ برطانیہ کا مرکز ہے۔

سنہ 2002 میں شاہی خاندان کی آخری شخصیت جن کی میت کو دیدار کے لیے اس ہال میں رکھا گیا تھا وہ ملکہ الزبتھ کی والدہ مادر ملکہ تھیں۔ اُن کا آخری دیدار کرنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ افراد قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔

ملکہ کی میت کو 11ویں صدی میں تعمیر کیے جانے والے ہال کی قرون وسطیٰ کی لکڑی کی چھت کے نیچے ایک بلند پلیٹ فارم پر رکھا جائے گا جسے ’کیٹفالک‘ کہا جاتا ہے۔ پلیٹ فارم کے ہر کونے کی حفاظت ان یونٹس کے سپاہی کریں گے جو شاہی خاندان کی خدمت کرتے ہیں۔

دیدار کے بعد اُن کی میت کو بکنگھم پیلس سے ایک جلوس کی صورت میں ویسٹ منسٹر ہال لایا جائے گا۔ یہ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھے گا اور میت کے ہمراہ فوجی پریڈ اور شاہی خاندان کے افراد بھی ہوں گے۔

لوگ اس جلوس کو سڑکوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھ سکیں گے اور لندن کے واقع رائل پارکس میں آخری رسومات کی یہ تقریبات بڑی سکرینوں پر دکھائے جانے کا امکان ہے۔

a3w
a3w